| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمالی، واجپئی ون ٹو ون ملاقات
پاکستان کے وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے اپنے بھارتی ہم منصب اٹل بہاری واجپئی سے جناح کنونشن سینٹر میں سارک سربراہ اجلاس کے افتتاح کے بعد ون ٹو ون ملاقات کی ہے۔ جس میں انہوں نے صدر جنرل مشرف سے خیرسگالی ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ جبکہ دوسری جانب پاکستانی وزیرخارجہ خوشید محمود قصوری اور بھارتی وزیرخارجہ یشونت سنہا کے مابین بھی ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات کے بعد ہندوستان کے وزیر خارجہ یشونت سنہا نے صحافیوں کو بتایا کہ ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے پاکستان کے وزیراعظم جمالی سے آدھ گھنٹہ ملاقات کی جس میں سے پندرہ منٹ کی ملاقات صرف دونوں رہنماؤں کے درمیان ہوئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ خیر سگالی ملاقات تھی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ واجپئی نے پیر کے روز صدر مشرف سے خیر سگالی ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ واجپئی نے پاکستان کے لئے روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ صدر مشرف سے مذاکرات نہیں کریں گے۔ سنہا نے کہا کہ دونوں وزراۓ اعظم نے اتفاق کیا کہ دو طرفہ تعلقات میں جو پیش رفت ہوئی ہے اس کی رفتار کو برقرار رکھا جاۓ گا۔ اس سے قبل سارک سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے کہا ہے کہ جنوب ایشیا کے ملکوں کے درمیان بڑے پیمانے پر کثیر جہتی تعاون کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک یہ ملک اپنے اختلافات اور تنازعات حل کرکے اعتماد کی فضا قائم نہ کرلیں۔ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے بھی اجلاس سے اپنے خطاب میں اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں نسلی، لسانی، تقافتی اور مذہبی بندھن حالیہ سیاسی اختلافات سے کہیں زیادہ پائیدار ہیں۔ وزیراعظم جمالی کے سارک سربراہ کانفرنس سے خطاب کی خاص بات یہ تھی کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ پاکستان کے کسی سربراہ نے سارک کانفرنس میں اپنے خطاب میں جموں و کشمیر کے تنازعہ کا ذکر نہیں کیا۔ وزیراعظم جمالی نے سارک سربراہ کانفرنس میں اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ سارک تنظیم کو آگے بڑھانے کے لیے ایک روڈ میپ بنایا جاۓ۔ انکا کہنا تھا کہ سارک کو مضبوط کیا جاۓ اور اس کے بین الاقوامی کردار کو بڑھایا جاۓ۔ وزیراعظم جمالی نے سارک ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کے معاملہ پر خاصا وقت صرف کیا۔ انھوں نے کہا کہ سارک کی تنظیم خطہ میں معاشی ترقی کا انجن بن سکتی ہے۔ جمالی نے کہا کہ قریبی اقتصادی تعاون کے لیے ایک سارک کے مرکزی بینک کا قیام رکن ممالک کی خاص توجہ چاہتا ہے۔ جمالی نے سارک ملکوں کے درمیان توانائی کے وسائل میں تعاون کی تجویز پیش کرتے ہوۓ کہا کہ جنوب ایشیا کے خطہ میں انرجی رنگ قائم کرنے پر ایک رپورٹ بنانے پر غور کیا جاۓ اور سارک ملکوں کے درمیان تیل اور گیس پائپ لائن کے قیام کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ وزیراعظم جمالی نے انسداد دہشت گردی کے سارک کے پروٹوکول میں نۓ پروٹوکول کو سراہا اور کہا کہ اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے کتنا پرعزم ہے۔ وزیراعظم جمالی نے اتوار کو بارھویں سارک سربراہ کانفرنس کے اجلاس میں علاقائی تنظیم کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا جو اس سے پہلے نیپال کے وزیراعظم سورما بہادر تھاپا کے پاس تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||