BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2004, 12:44 GMT 17:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت فضائی رابطہ بحال

پی آئی اے

جمعرات کو تقریبا تین بجے شام پی آئی اے کا بوئنگ سیون تھری سیون طیارہ اکتالیس مسافروں اور ایک شیر خوار بچے کو لے کر دلی کے لئے روانہ ہوگیا اور یوں دونوں ملکوں کے درمیان دو سال کے وقفے کے بعد فضائی رابطہ بحال ہوگیا۔

دلی جانے والی اس پرواز کے مسافروں میں اکتالیس مسافر ، ایک شیر خوار بچہ، دو پائلٹ اور چھ افراد پر مشتمل کیبن کا عملہ شامل ہے۔ پی آئی اے کے مطابق طیارہ میں ایک سو اٹھارہ مسافروں کی گنجائش ہے۔

پی آئی اے کے چیئرمین احمد سعید نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ فضائی رابطوں کے بحالی سے دونوں ملکوں کو فاعدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے بھارتی شہروں مدراس اور حیدر آباد میں بھی اسی طرح کی پروازیں شروع کرنے کی خواہشمند ہے۔

پاکستان سے آنے والی ایک خاتون مسافر یاسمین کا کہنا تھا ’بھارت اور پاکستان کے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے ہمیں اس سے کوئی سرو کار نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ فضائی سفر میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے اور ہماری خواہش ہے کہ ہم اپنے اقرباء سے ملنے کے لئے ایک دوسرے کے ملک میں آ جا سکیں۔‘

جمعرات کو دلی جانے والی پی آئی اے کی پہلی پرواز ان چھ ہفتہ وار پروازوں میں سے ایک ہے جو لاہور اور کراچی سے دلی اور بمبئی کے لیے چلائی گئی ہیں۔ ہفتہ میں دلی کے لیے دو پروازیں لاہور سے اور دو کراچی سے چلیں گی جبکہ بمبئی کے لیے ہفتہ میں دو پروازیں کراچی سے چلا کریں گی۔

پی آئی اے کے ترجمان اطہر حسن نے لاہور میں پرواز کی روانگی سے قبل بی بی سی کو بتایا کہ یہی طیارہ شام چھ بج کر دس منٹ پر دلی سے ایک سو اکتالیس مسافر لے کر پاکستان واپس آرہا ہے جس میں ایک بڑی تعداد سارک کانفرنس کی کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کی ہے۔

اس پرواز کے ایک مسافر سید انور کے لیے یہ سفر خاص اہمت رکھتا ہے کہ وہ سات سال بعد ہندوستان میں اپنی بہن اور دوسرے رشتے داروں سے ملنے جارہے تھے۔ پچاس سالہ سید انور نیویارک میں رہتے ہیں اور بینکنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایک ہفتہ پہلے پاکستان آۓ تو امریکہ سے ہندوستان کے لیے ویزا لے کر آۓ تھے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ انہیں پرائم ٹی وی اور زی ٹی وی سے پتا چل گیا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان آمد و رفت شروع ہونے والی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ دلی سے الہ آباد روانہ ہوجائیں گے جہاں ان کی بہن رہتی ہیں۔

امریکہ کی ریاست ورجینیا کے شہر سے آۓ ہوۓ ستر سالہ ظفر علی سبزواری دلی کے راستے اپنی بیوی کے ساتھ میرٹھ جارہے تھے۔ وہ ورجینیا میں ریسٹورینٹ کا کاروبار کرتے ہیں۔

ظفر علی نے بتایا کہ ان کے دو بھائی پاکستان میں اور دو ہندوستان میں رہتے ہیں۔ ان کی ایک بہن دلی میں اور دو بھائی میرٹھ میں ہیں جن سے ملنے کے لیے انھوں نے پاکستان آنے سے پہلے امریکہ ہیں سے ہندوستان کا ویزا لے لیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ عام طور پر امریکہ سے ہندوستان کا ویزا آسانی سے مل جاتا ہے لیکن اس بار ذرا مشکل پیش آئی اور ہندوستان کے سفارت خانہ نے امریکہ میں ان سے کہا کہ وہ درخواست جمع کراۓ جانے کے تین ماہ بعد تفتیش مکمل کرکے ویزا دیں گے تاہم بعد میں انھوں نے ویزا قونصلر سے بات کی تو انھوں نے اسی روز ان کو اور ان کی بیوی کو ویزا جاری کردیا۔

ظفر علی نے بتایا کہ انھیں امریکہ سے دلی کی پرواز کے لیے ٹکٹ نہیں مل سکا تھا لیکن پاکستان آکر انہیں دلی کے لیے ٹکٹ آسانی سے مل گۓ۔

دونوں ملکوں کے درمیان بس سروس پہلے ہی شروع ہوچکی ہے اور سمجھوتہ ایکسپریس کے ذریعے ٹرین بھی پندرہ جنوری سے چلنا شروع ہوجاۓ گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد