| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بام: ایرانی ثقافت کا نگینہ
شہر بام ایران کا اہم ترین تاریخی ورثہ تصور کیا جاتا ہے۔ خیال ہے کہ یہ شہر دو ہزار برس قبل قائم کیا گیا تھا تاہم یہاں موجود چند قدیم عمارتیں سولہویں اور سترہویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہر سال ہزاروں سیاح یہ تاریخی مقام دیکھنے آتے ہیں۔ مٹی، اینٹوں اور کھجور کے درختوں کے تنوں سے بنی یہ بستی پوری دنیا میں اپنی طرز کی سب سے بڑی بستی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حالیہ زلزلے سے ملک کے جنوب مشرق میں واقع یہ تاریخی شہر مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ سن پندرہ سو ایک سے لے کر سترہ سو چھتیس تک کے عرصے میں بام کا شہر چھ مربع کلومیٹر رقبے پر محیط تھا اور اس کے چاروں طرف اڑتیس مینار تھے۔ ایک اندازے کے مطابق اس شہر کی آبادی نو ہزار سے تیرہ ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ سولہویں صدی میں بام تجارت کا بڑا مرکز کہلاتا تھا۔ یہاں سے گزرنے والی شاہراہ ریشم کے ذریعے مشرق بعید کی خاص مصنوعات ایران سے ہوتے ہوئے یورپ کے جدید شہروں تک پہنچائی جاتی تھیں۔ سترہ سو بائیس میں افغان حملے کے بعد سے اس شہر کی اہمیت قدرے کم ہوگئی۔ بام کو سن انیس سو بتیس تک فوجی بیرکوں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا جس کے بعد اسے خالی کردیا گیا۔ سن انیس سو تریپن میں ایرانی حکومت نے ماہرین تعمیرات اور مورخوں کی ٹیمیں تعینات کیں تاکہ اس شہر کے قدیم ورثہ کو محفوظ کیا جاسکے جس کے بعد سے یہ شہر ہزاروں سیاحوں کی دلچسپی کا باعث رہا۔ اور اب یوں معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کا یہ بیش قیمت خزانہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||