| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف خود کش حملے میں بچ گئے
راولپنڈی میں جمعرات کو صدر جنرل پرویز مشرف کے قافلے پر ایک خطرناک خود کش حملے میں کم از کم چودہ افراد ہلاک اور چھیالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ اس حملے میں صدر مشرف نشانہ تھے۔ وہ محفوظ ہیں۔ وزیرِ اطلاعات شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کے قافلے پر دو مختلف اوقات پر دو گاڑیوں سے حملہ کیا گیا۔ یہ گاڑیاں دو پیٹرول سٹیشنوں سے باہر نکلی تھیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کی گاڑی کے شیشے ٹوٹے ہیں جبکہ تین دوسری گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم فوج کے تعلقاتِ عامہ کے شعبے کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں پر محض رگڑ لگی ہے۔ شیخ رشید نے کہا’ صدر مشرف قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔ الحمدوللہ کہ صدر مشرف کو نئی زندگی ملی ہے اور وہ خیریت سے ہیں۔‘ چند روز قبل اس علاقے سے کچھ فاصلے پر واقع جھنڈا کے مقام پر ایک پل پر بھی دھماکہ ہوا تھا جہاں سے صدر جنرل پرویز مشرف کی گاڑی گزری تھی۔ پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور دو گاڑیوں میں سوار تھے جن میں دھماکہ خیز بھرا ہوا تھا۔ جونہی جنرل مشرف کی گاڑی ٹوٹل پیٹرول کے قریب سے گزری پپٹرول پمپ پر کھڑی گاڑی حرکت میں آئی اور اس نے صدر کی گاڑی سے پیچھے والی گاڑی کو ٹکر مار دی۔ اسی دوران ایک اور گاڑی جو چند قدم دور واقع ایک دوسرے پیٹرول پمپ پر کھڑی تھی، اس نے اچانک نکل کر صدر مشرف کے قافلے کی آخری گاڑی کو ٹکر مار دی۔ عینی شاہدوں نے بتایا کہ جائے واردات پر ہر طرف خون اور لاشیں بکھری پڑی تھیں ۔ دونوں پیٹرول سٹیشنوں اور متعدد دکانوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بیس کے قریب گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔ زخمیوں کو ملٹری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاہم پولیس حکام نے کسی بھی ہلاک ہونے والے کی شناخت نہیں کی ہے۔ جس جگہ حملہ ہوا وہاں سول لائز اور صدر بیرونی کے دو پولیس سٹیشن واقع ہیں۔ اس کے علاوہ علاقے کی سیکورٹی میں راولپنڈی کور بھی شامل ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ حملے میں سوزوکی کاریں استعمال کی گئیں ہیں۔ یہ دھماکے جسے صدر مشرف پر قاتلانہ حملے کی دوسری کوشش قرار دیا جا رہا ہے، ایک خود کش حملہ تھا اور یہ اس وقت ہوا جب جنرل مشرف اسلام آباد سے راولپنڈی اپنے گھر لوٹ رہے تھے۔ دھماکوں کے فوراً بعد پورے علاقے کو فوج نےگھیرے میں لے لیا ہے۔ صدر کے قافلے میں شامل سیکورٹی اہلکاروں کی کھلی گاڑی بھی اس سڑک پر تباہ شدہ حالات میں کھڑی دیکھی گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||