| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
چڑھتے ایتھلیٹس کے لیے تاریک سال
گزشتہ بارہ ماہ جنہوں نے دنیا کو بہت کچھ دکھایا ہے وہاں دنیا کے ان ایتھلیٹس کے ناموں اور مستقبل پر شکوک و شبہات کے تاریک بادل بھی چھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے حیران کن کامیابیاں حاصل کیں۔ لیکن ابھی وہ اپنی کامیابی کے جشن منانے کا آغاز بھی نہیں کر سکے تھے یا تھیں کہ ان پر توانائی فراہم کرنے والی منشیات کے استعمال کا باوثوق الزام آ گیا اور نہ صرف انہیں جاری مقابلوں میں شرکت سے روک دیا گیا بلکہ انہوں نے جو اغزازات حاصل کیے تھے ان کی بھی واپسی کی بات ہونے لگی۔ ابھی تک تو یہ بات بھی راز بنی ہوئی تھی کہ آخر یہ راز کیسے کھلا کہ فتوحات کے جھنڈے گاڑنے والے بہت سے ایتھلیٹ منشیات استعمال کر رہے ہیں؟ راز تو ابھی پوری طرح نہیں کھلا لیکن یہ پتہ چل گیا ہے کہ منشیات کی نئے سرے سے آزمائشوں کا آغاز اچانک اس وقت ہوا جب ایک نامعلوم کوچ نے پیرس میں ہونے والے عالمی مقابلوں کے منتظمیں کو ایک ایسی دوا کا نمونہ فراہم کر دیا جو ممنوعات کے زمرے میں آتی تھی۔ اس نمونے کے ملتے ہی منتظمین نے فوری طور پر آزمائش کے طریقوں میں نئے اضافے کیے اور مقابلوں میں شریک ایتھلیٹس کے پہلے سے فراہم کردہ نمونوں کی نئے سرے سے جانچ کی تو یہ پتہ چلا لیا کہ بہت سے امریکی اور برطانوی ایتھلیٹس ممنوعات میں آنے والی ایک نئی طرح کی دوا استعمال کر رہے ہیں۔ اس دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ یہ دوا ایسی ہے کہ پہلے سے جاری آزمائشی طریقے استعمال کر کے اس کا سراغ نہیں لگایا جا سکتا۔ ان آزمائشوں کے نتیجے میں حکام نے عندیہ دیا کہ سات امریکی اور ایک برطانوی سرکردہ ایتھلیٹ ممنوعہ دوا استعمال کرنے کے باعث نہ صرف اب تک حاصل کیے جانے والے تمغوں سے محروم ہو جائیں گے بلکہ ان پر آئندہ مقابلوں میں حصہ نہ لینے کی پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگست دو ہزار تین کے پیرس میں ہونے والے عالمی ایتھلیٹکس مقابلوں میں تمغے حاصل کرنے والی امریکی خاتون ایتھلیٹ کیلی وائٹ کو دو طلائی تمغوں سے محروم کرنے کا معاملہ کم و بیش طے پا گیا اور باقی کے خلاف تادیبی کارروائی ہے کا لائحہ عمل طے کیا جانے لگا۔ کہا جا رہا کہ سات سرکردہ امریکی اور ایک برطانوی ایتھلیٹ اس نوع کی خلاف ورزی کے مرتکب ثابت ہو سکتے ہیں۔ امریکی خاتون ایتھلیٹ کرسٹی گینز کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ان پر امریکہ میں ہونے والی جولائی کی چیمپئن شپ میں ممنوعہ دوائیں استعمال کرنے کا الزام ثابت ہو چکا ہے اور ان پر بھی پابندی لگائے جانے کا امکان ہے جس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سے وہ تمام اعزاز واپس لے لیے جائیں گے جو انہوں نے امریکہ ہی میں ہونے والے جولائی کے مقابلوں میں اور اس کے بعد حاصل کیے تھے۔
انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشن کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ کیلی وائٹ کے لیے مجموعی طور پر کیا سزا تجویز کی جائے گی۔ برطانیہ کے سرِ فہرست ایتھلیٹ ڈوائن چیمبر نے اگرچہ یہ اعلان کیا کہ ان پر ممنوعہ دوا استعمال کرنے کا الزام ثابت ہو چکا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اسے یہ علم نہیں تھا کہ کوئی ممنوعہ دوا استعمال کر رہا ہے۔ چیمبر کے اس بیان کے باوجود کہ اس نے کبھی جان بوجھ کر منتظمین کو دھوکہ دینے کی کوشش نہیں کی منتظمین کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود اگر چیمبر کے بی ٹیسٹ مثبت ثابت ہوئے تو انھیں عمر بھر اولمپک مقابلوں میں شرکت کی اجازت نہیں ہو گی یا ان پر کم سے کم دو سال تک کسی مقابلے میں حصہ نہ لینے کی پابندی لگ سکتی ہے۔ اور ابھی تک حتمی صورتِ حال سامنے نہیں آئی۔ چیمبر اور امریکی کھلاڑیوں پر ایک نئی دوا استعمال کرنے کا الزام ہے۔ ٹی ایچ جی یا ٹیٹرا ہائیڈرو گیسٹری نون کہلانے والی اس دوا کے بارے میں، جس کے انکشاف نے دنیا بھر کے متعدد ایتھلیٹس کےلیے مشکلات پیدا کر دی ہیں، یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کے استعمال کا سراغ نہیں لگایا جا سکتا۔ ٹی ایچ جی کے سراغ کا طریقہ بھی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر ڈون کیٹلین کا ایجاد کردہ ہے اور امریکی ایسوسی ایشن اس دوا کو استعمال کرنے والوں کے خلاف خود بھی سخت کارروائی کا فیصلہ کر چکی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||