| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاست میں عورتوں کا راج
بھارت کے انتخابات میں عورتیں زیادہ تعداد میں امیدوار تو کبھی بھی نہیں رہیں لیکن حالیہ انتخابات کے بعد ایک عجیب بات جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت بھارت میں پانچ خواتین مُکھیہ منتری یا وزرائے اعلیٰ بنی چکی ہیں۔ اُمّا بھارتی اور وسُندرا راجھے کا تعلق بھارتی جنتا پارٹی سے ہے اور وہ مدھیا پردیش اور راجھستان میں وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہو چکی ہیں۔ لہذا وہ دہلی کی وزیرِ اعلیٰ شیلا ڈکشٹ کے ساتھ آ کھڑی ہوئی ہیں جو کانگریس پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔
دو اور خواتین جو اسی منصب پر فائز ہیں ان میں جے للیتا تامل ناڈو اور رابڑی دیوی بہار میں وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پر متمکن ہیں۔ دہلی میں شیلا ڈکشٹ دوسری مرتبہ اس عہدے پر منتخب ہوئی ہیں۔ انیس سو اٹھانوے میں جب انہوں نے پہلی مرتبہ یہ منصب سنبھالا تو لگتا نہیں تھا کہ وہ اتنی بڑی رہنما بن جائیں گی۔ ان کی دوسری مرتبہ کامیابی کا راز ان کی شخصیت اور دورانِ حکومت ان کے کارنامے ہیں۔
اُمّا بھارتی ہندو نن ہیں اور قوم پرستی کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ وہ زعفرانی رنگ کا لباس پہنتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ انہوں نے عہد کر رکھا ہے کہ وہ شادی نہیں کریں گی، یہی رنگ پہنا کریں گی اور گوشت خوری سے دور رہیں گی۔ وسندارا راجھے پہلے بھی وزیر رہے چکی ہیں اور بھارتی سیاست میں بہت دلچسپ شخصیت تصور کی جاتی ہیں۔ ان کا تعلق مدھیا پردیش کے ایک شاہی خاندان سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ راجھستان میں جہاں زیادہ تر ایک فیوڈل معاشرہ ہے ، عورت کا سیاست دان ہونا کوئی فاعدے کی بات نہیں۔ اگرچہ ہندوستان میں عورتیں بڑے اور اہم سیاسی اور حکومتی عہدوں پر فائز ہو رہی ہیں لیکن پھر بھی وہاں انتخابات میں خواتین امیدواروں کی تعداد انتہائی کم ہے یعنی کل امیدواروں کے دس فیصد سے بھی کم۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||