| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کو مونیکا مل جائے گی
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں پرتگال کی حکومت کا وہ سرکاری حکمنامہ مل گیا ہے جو پرتگال میں گرفتار ہونے والے بھارت کے سب سے مطلوب شخص ابو سالم کی ساتھی اور سابق بھارتی ادارکارہ مونیکا بیدی کو بھارت کے حوالے کیے جانے سے متعلق ہے۔ معروف رہنے والے سابق بھارتی ادارکارہ مونیکا بیدی بھارت کے چند سب سے زیادہ مطلوب ملزمان میں سے ایک ابو سالم کے ہمراہ پرتگال میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور جعلسازی کرنے کے الزامات کے تحت گزشتہ برس گرفتار ہوئی تھیں۔ ان کا ساتھی ابو سالم بھارتی حکام کو قتل، تاوان، بھتہ خوری، اغوا کے کئی مقدمات میں مطلوب ہے۔ بھارت کے مرکزی تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) نے، جس کے حکام نے پرتگال کے شہر لسبن کی عدالت میں بیدی اور ابو سالم کی حوالگی کی درخواست دائر کی تھی، مونیکا بیدی کی حوالگی کے بارے عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ سی بی آئی کے ترجمان جی موہنتی کا کہنا ہے ’لسبن ہائی کورٹ نے یہ کارروائی اٹھائیس نومبر کو دائر کی جانے والی ہماری درخواست پر کی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ ایسا ہی کوئی فیصلہ ابو سالم کے بارے میں بھی ہوگا۔‘ ابو سالم کے ہمراہ مونیکا بیدی کو بھی پرتگال میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے پر عدالت عالیہ (ہائی کورٹ) نے دو برس کی سزا سنائی تھی۔ سی بی آئی کے ترجمان جی موہنتی نے بی بی سی کو بتایا کہ مونیکا بیدی ثناء کمال ملک کے نام سے پرتگال میں داخل ہوئی تھی۔ لیکن مونیکا بیدی اب بھی پرتگال کی عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) میں اپنی سزآ کے خلاف اپیل دائر کرسکتی ہے۔ سی بی آئی نے مونیکا اور ابو سالم کو بھارتی حکام کے حوالے کیے جانے کی یہ درخواست گزشتہ برس دائر کی تھی۔ لیکن اس درخواست کو لسبن کی عدالت عالیہ نے مسترد کردیا تھا جس کے بعد سی بی آئی کے حکام نے پرتگال کی عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تھا۔ لیکن عدالت عظمیٰ نے یہ معاملہ نظر ثانی کے لیے واپس عدالت عالیہ بھیج دیا تھا۔ ابو سالم کو پرتگال کی عدالت نے جعلی شناختی دستاویزات استعمال کرنے اور اپنی گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرنے کے الزام میں ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ابوسالم سن انیس سو ترانوے میں بھارت کے مغربی ساحلی شہر بمبئی میں ہونے والے ان بم دھماکوں کا ایک بڑا ملزم تصور کیا جاتا ہے جن میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وہ انیس سو نوے کی دہائی میں بھارت سے فرار ہوکر دبئی پہنچا تھا جہاں دو برس قبل اسے گرفتار کرلیا تھا۔ لیکن اسے اس وقت رہا کردیا گیا تھا جب بھارتی حکام اس کے خلاف کوئی ثبوت و شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||