| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ: پناہ گزینوں میں کمی
برطانیہ میں پناہ چاہنے والوں کے لئے ایک نئی قانون سازی کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹونی بلیئر کی حکومت نے گزشتہ برس اکتوبر میں پناہ گزینوں کے تعداد نصف کرنے کا جو ہدف مقرر کیا تھا وہ کم و بیش پورا ہوا ہے۔ چنانچہ حکومت کو یقین ہے کہ ملکۂ برطانیہ کی تقریر میں پناہ کے طالبوں کے لئے جس نئی قانون سازی کا ذکر ہے اس سے صورتِ حال پر اور بہتر طریقے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ پہلی بار نہیں کہ ٹونی بلیئر کی حکمراں جماعت کے اراکین اس مسئلے پر بات چیت کر رہے ہوں۔ اب سے پہلے کم از کم دو بار یہ موضوع زیرِ بحث رہا ہے اور بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ حسبِ سابق ایک دفعہ پھر اراکینِ پارلیمان کے مختلف الرائے ہونے کے باعث انہیں دو گروہوں میں تقسیم کر دے گا۔ نئے قانون کے مطابق برطانیہ میں ایسے پناہ چاہنے کے خواہشمند جن کی درخواست مسترد ہو جائے گی، اس فیصلے کے خلاف صرف ایک مرتبہ ہی اپیل کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں وہ پناہ چاہنے والے جو برطانیہ پہنچنے سے قبل ہی دستاویزات ضائع کردیں گے، انہیں بھی سزاؤں کا سامنا ہوگا۔ اگر کسی خاندان کی پناہ کی درخواست مسترد ہو جائے گی اور وہ اپنے وطن واپسی سے انکار کریں گے تو ایسے خاندان کو حکومت کی جانب سے ملنے والی امدادی رقم فوراً روک دی جائے گی۔ وہ لوگ جو برطانیہ چھوڑنے سے انکار کریں گے ان کے فنڈ منجمد کر دیئے جائیں گے اور ان کے بچوں کی نگہداشت کا اختیار حکومت اپنے ذمہ لے لے گی۔ امیگریشن ایڈوائزری سروس کے چیف ایگزیکٹو کیتھ بیسٹ کہتے ہیں کہ نیا قانون کامیاب نہیں ہو سکتا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کئی حلقوں کی طرف سے اس بل کی حمایت کی جائے گی خاص طور پر جہاں لوگ پناہ گزینوں کے اس نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اس مجوزہ قانون کو شاید عدالتوں میں اس طرح چیلنج کیا جائے گا جیسے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ خاص طور پر ایک اپیل کا نظام قائم کرنے پر حکومت کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ ایک اور معاملہ جس پر کافی نزع پیدا ہونے کا امکان ہے وہ پناہ چاہنے والوں کو قانونی مدد کی فراہمی ہے۔ کیتھ بیسٹ کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو قانونی امداد نہ دینے کا مسئلہ ابتدا ہی میں قانونی پیچیدگیاں پیدا کر دے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بار بار پناہ چاہنے والوں پر مختلف پابندیاں لگانے سے برطانوی شہریوں کے دل میں پناہ گزینوں کے لئے نرم گوشہ نہیں رہے گا۔ اگر شہریوں کے بچے حکومتی اداروں کی نگہداشت میں لئے جائیں گے تو پھر برطانوی حکومت پر الزام لگے گا کہ یہ خاندانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||