BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 November, 2003, 03:42 GMT 08:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں عرب ٹی وی پر پابندی
صدام حیسن کا پیغام نشر کرنے پر الجزیرہ اور العربیہ پر بھی پابندی لگ چکی ہے
صدام حیسن کا پیغام نشر کرنے پر الجزیرہ اور العربیہ پر بھی پابندی لگ چکی ہے

امریکہ کی نامزد کردہ عراقی عبوری کونسل نے ایک عرب ٹیلی ویژن چینل پر عراق میں امریکی فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے باعث پابندی عائد کر دی ہے۔

دبئی میں قائم العربیہ ٹی وی نے ان خبروں کی تصدیق کی کہ بغداد میں ان کے دفتر کو زبردستی بند کر دیا گیا ہے۔

عراقی عبوری کونسل کے موجودہ سربراہ نے کہا کہ العربیہ صدام حسین کی ٹیپ نشر کر کےلوگوں کو تشدد پر اکسا رہا ہے۔

اس ٹیلی ویژن نے نومبر کی چھ تاریخ کو صدام حسین کا ایک پیغام نشر کیا جس میں لوگوں کو امریکیوں کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

اس پیغام میں امریکہ فوجوں کا ساتھ دینے والوں کو ان کتوں کے تشبہی دی گئی جو قافلے کے پیچھے پیچھے دوڑتے ہیں۔

عراقی کونسل کے موجودہ سربراہ جلال تلابی نے کہا کہ العربیہ پر کچھ عرصے کے لیے پابندی عائد کی جارہی ہے تاہم انہوں نے مدت کا تعین نہیں کیا۔

العربیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا کہ وہ بغیر کسی تعصب کے خبروں کو نشر کرنے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔

اس سال ستمبر میں عراق کی حکمران کونسل نے ایک قانوں کے ذریعے تشتدد کے پرچار پر پابندی عائد کی تھی۔ اس قانون کے تحت العربیہ اور الجزیرہ پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ان دونوں ٹی وی چینلوں نے بھی صدام حسین کے پیغامات نشر کئے تھے۔

گزشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے ان دونوں ٹی وی چینلوں کو اتحادی فوجوں کا سخت مخالف قرار دیا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد