| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’مزید دہشت گردی کا امکان ہے‘
امریکہ نے ایک بار پھر ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ امریکی اہداف پر مزید حملوں کا امکان بڑھ گیا ہے۔ امریکہ میں محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ اس بات کے کافی زیادہ اشارے مل رہے ہیں کہ القاعدہ کے شدت پسند دنیا میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ محکمۂ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ القاعدہ کی کوشش ہو گی کہ وہ جو بھی حملے کرے یا جہاں بھی امریکی اہداف کو نشانہ بنائے اس کا اثر ستمبر دو ہزار ایک میں ہونے والے خود کش حملے سے کہیں زیادہ ہو۔ ایک بیان میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ القاعدہ غیر روایتی ہتھیاروں یعنی جراثیمی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کے ذریعے دہشت گردی کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ القاعدہ کی کوشش ہوگی کہ ایک بار پھر امریکہ میں بھی حملہ کیا جائے۔ اس سے پہلے ملنے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ ایک خفیہ بلیٹن میں جو پولیس اور سلامتی سے متعلق اہلکاروں کو بھیجا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ القاعدہ تنظیم کی کوشش ہے کہ وہ دہشت گردی کی سازشیں کرتی رہے۔ اس وقت امریکہ میں رنگ سے سکیورٹی کی حالت ظاہر کرنے کے لئے پیلا رنگ استعمال کیا جا رہا ہے جو پانچ رنگوں کے درمیان میں ہے۔ دریں اثناء ترک قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر چار خودکش حملوں کے باوجود ترکی عسکریت پسندوں کے رعب میں نہیں آۓ گا۔ قومی سلامتی کونسل نے جو سیاست دانوں اور فوجیوں پر مشتمل مشاورتی تنظیم ہے، کہا کہ ترک قوم بین الاقوامی دہشت گردی کو زیر کرنے کا پورا تہیہ کۓ ہوئے ہے۔ کونسل نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لۓ زیادہ بین الاقوامی اور علاقائ تعاون کی اپیل کی ہے۔ اس بیان سے پہلے وزیر خارجہ عبداللہ گل نے کہا تھا کہ ترکی کو اس وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے کہ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ کسی ملک کا مسلمان ہونا اور جمہوری ہونا ممکن ہے۔ حکومت نے تصدیق کی ہے کہ حملوں کے سلسلے میں کئ گرفتاریاں ہوئی ہیں لیکن اس سے زیادہ تفصیل نہیں بتائی۔ دریں اثناء |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||