BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2003, 09:41 GMT 14:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شمالی کوریا منصوبہ ظاہر کرے‘
 امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ دورے پر کوریا پہنچے ہیں۔

امریکہ اورجنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری امور کو مکمل طور پر کھول کر دنیا کے سامنے لائے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں ایک اجلاس کے بعد امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ اور ان کے کوریائی ہم منصب شوہ ینگ کل نے مشترکہ طور پر اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ شمالی کوریا کو وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے تجربات، تیاری اور برآمد کو بھی روک دینا چاہیے۔

ایک اور امریکی رہنما جیمس کیلی بھی شمالی کوریا کے جوہری امور پر کثیرالقومی مذاکرات کے لیے ان دنوں میں جاپان میں ہیں۔

جنوبی کوریا کے صدر کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات آئندہ ماہ دسمبر کے وسط تک بیجنگ میں منعقد ہوسکتے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ نے شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان سرحد کے اگلے مورچوں سے امریکی فوجوں کو واپس بلانے کی یقین دہانی کو بھی دہرایا۔

اس سے قبل امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ کی جنوبی کوریا آمد کے موقع پر امریکہ مخالف مظاہرے ہوئے۔

مظاہرین جنوبی کوریا میں امریکی فوجوں کی موجودگی اور عراق پر امریکی حملے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

رمسفیلڈ کی سیئول آمد کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری کو سڑکوں پر تعینات کیا گیا تھا۔

مشرقی ایشیاء کے دورے کے اس مرحلے میں امریکی وزیر خارجہ جنوبی کوریا کے رہنماؤں کے ساتھ امریکی اڈوں، عراق میں اتحادی فوجوں میں جنوبی کوریا کی شمولیت اور شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کے موضوع پر کریں گے۔

رمسفیلڈ مذاکرات کے دوران ملک میں موجود سینتالیس ہزار امریکی فوجیوں کی ازسرنو تعیناتی کے معاملے پر بھی بات چیت کریں گے۔

امریکہ کی خواہش ہے کہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں قائم اڈوں کو ملک کے جنوبی حصے میں منتقل کر دیا جائے۔

اپنے دورے کے دوران رمسفیلڈ جنوبی کوریا کے صدر روہموہیون سے ملاقات کریں گے اور شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔

بات چیت کے دوران جنوبی کوریا کی فوج کو عراق بھیجنے کا معاملے بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے۔

جنوبی کوریا نے گزشتہ ہفتے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ عراق میں صرف تین ہزار فوجی بھیجے گا۔

دوسری طرف امریکہ جنوبی کوریا پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ زیادہ تعداد میں فوجی عراق بھیجنے کا اعلان کرے۔

جنوبی کوریا میں عوامی سطع پر ان معاملات پر شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد