| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان کا انکار، اٹلی کا عزم
جاپان نے کہا ہے کہ وہ اپنے فوجی عراق بھیجنے کا فیصلہ مؤخر کررہا ہے تاہم اطالوی حکام نے عراق میں اپنی فوج کی موجودگی کے بارے میں عزم کا اظہار کیا ہے۔ جاپان کا کہنا ہے کہ اب وہ اس بارے میں کوئی فیصلہ اگلے سال کرے گا کیونکہ عراق میں سکیورٹی کی صورتحال بگڑتی جارہی ہے۔ عراقی شہر ناصریہ میں اطالوی فوج کے دفتر پر بدھ کے حملے سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ جاپان اس سال کے اختتام سے قبل اپنی فوجیں عراق کے لئے روانہ کردے گا۔ جاپان نے یہ فیصلہ مؤخر کرنے کا اعلان بدھ کے واقعے کے بعد کیا ہے جس میں کم سے کم ستائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پرتگال نے بھی ان حالات کے پیشِ نظر اپنا دستہ ناصریہ میں تعینات کرنے کے بجائے بصرہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کے حملے میں ہلاک ہونے والے ستائیس افراد میں سے انیس اطالوی بتائے جارہے ہیں۔ تاہم اطالوی وزیرِاعظم سلویو برلسکونی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس حملے سے ڈر کر پیچھے نہیں ہٹے گا اور اطالوی افواج عراق میں موجود رہیں گی۔ انہوں نے کہا ’اطالوی فوج عراق کی تعمیرِ نو اور حکومت کے قیام کے لئے اپنا عہد پورا کرے گی‘۔ اطالوی وزیر دفاع اینطونیو مارتینو نے ناصریہ میں اس جگہ کا دورہ کیا ہے جہاں حملے کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس حملے کا الزام سابق حکومت کی وفاداروں اور القاعدہ پر عائد کیا ہے۔ اطالوی حکومت نے عراق کی تعمیرِ نو کے لئے دو ہزار پانچ سو فوجی عراق میں تعینات کئے ہیں۔ یہ فوجی امریکی قیادت میں کام کرتے ہیں۔ دریں اثناء بغداد میں نامعلوم عراقی حملہ آوروں کے خلاف امریکی کارروائیاں جاری ہیں۔ ایک واقعے میں امریکی فوجیوں نے دو مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک، تین کو زخمی اور پانچ کو گرفتار کیا ہے۔ بغداد ہی میں ایک امریکی لڑاکا طیارے نے ایک عمارت کو تباہ کردیا ہے جس کے بارے میں انہیں شبہہ تھا کہ یہ عسکریت پسندوں کے استعمال میں ہے۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ سے افشا ہونے والی معلومات کے مطابق رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ عراق کی تعمیرِ نو کی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں کیونکہ عراق میں امریکی قبضے کی مسلح مخالفت میں تیزی آتی جارہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||