| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاض: ہلاکتیں سترہ ہو گئیں
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں گزشتہ رات ایک رہائشی احاطہ پر ہونے والے حملے میں جہاں کم سے کم گیارہ افراد کے ہلاک ہونے کی خبر تھی اب کہا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سترہ ہو چکی ہے جب کہ شروع میں ایک سو کے لگ بھگ افراد زخمی بتائے گئے تھے۔ گیارہ ہلاکتوں کی تصدیق سعودی حکام نے کر دی ہے تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ طریقۂ واردات سے ایسا لگتا ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے۔ دارالحکومت کے مغرب میں واقع محیہ کمپاؤنڈ میں تقریباً دو سو مکانات ہیں جن میں غیر سعودی، عرب بشمول لبنانی، مصری اور شامی آباد ہیں۔ یہ احاطہ اس علاقے کے قریب ہی واقع ہے جہاں شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کی نجی رہائش گاہیں ہیں۔ گزشتہ روز امریکہ نے سعودی عرب میں اپنے سفارتی دفاتر بند کر دیئے تھے اور کہا تھا کہ اس مستند ذرائع سے خفیہ اطلاعات ملی ہیں کہ سعودی عرب میں امریکی اور مغربی مفادات کے خلاف حملے کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک انتباہ برطانیہ نے بحریں کے بارے میں بھی دیا تھا۔ اس سے قبل مکہ میں سعودی حکام نے مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق کے شبہ ایک گروہ کا قلع قمع کیا تھا جو خودکش حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ مئی کے مہینے میں بھی ریاض میں ایک احاطہ پر خودکش حملے کیے گئے تھے جن میں پینتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان دھماکوں کے بعد سعودی حکام نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی تھی اور ایک اندازے کے مطابق اب تک چھ سو مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||