BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 November, 2003, 12:04 GMT 17:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آرمکو کا آرام

گاڑی چلانا نہ معیوب ہے نہ غیر اسلامی
عورتوں پر سخت قوانین کا اطلاق ہے

میری دوست کو شادی کی سالگرہ کے موقع پر اسکے میاں نے وہ تحفہ دیا کہ ریاض اور جدہ کی شہزادیاں بھی رشک کریں۔ اور وہ تحفہ تھا ایک عدد مرسڈیز بینز کا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس میں کون سی خاص بات ہے؟

دراصل میری دوست سعودی عرب میں رہتی ہیں جہاں عورتوں کو سرِ عام گاڑی تو کیا سائیکل چلانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ میری دوست کا شمار ان خوش قسمت عورتوں میں ہوتا ہے جو دمام سے پندرہ کلو میٹر دور ظہران کے آرمکو کمپاؤنڈ میں رہتی ہیں۔ تیل کی تلاش اور صفائی کرنے والی یہ سعودی امریکی کمپنی ملک کا واحد ادارہ ہے جس کی رہائشی کالونیوں میں مردوں کے ساتھ خواتین ملازمین اور ان کے خاندان والوں کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت ہے۔

ایسا اس لیے ہے کہ جب انیس سو تیس میں امریکی تیل کی تلاش میں سعودی عرب کی مدد کو آئے تو انکی یہ شرط تھی کہ ’ آرمکو‘ میں مقیم عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت ہو۔

اس وقت ملک عبدل عزیز نے ایک شاہی فرمان جاری کیا جو صرف آرمکو پر لاگو تھا۔ اسی فرمان پر آج بھی عمل درآمد ہو رہا ہے ۔

آزادی کی حد

 دراصل میری دوست سعودی عرب میں رہتی ہیں۔ جہاں عورتوں کو سرِ عام گاڑی تو کیا سائیکل چلانے کی بھی اجازت نہیں ہے، لیکن اس کا شمار ان خوش قسمت عورتوں میں ہوتا ہے جو ظہران کے آرمکو کمپاؤنڈ میں رہتی ہے جہاں خواتین کو بھی ڈرائیونگ کی اجازت ہے

عورتوں کی ڈرائیونگ کا معاملہ سعودی عرب میں بہت نازک سمجھا جاتا ہے۔ آپ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آج تک کسی سعودی اخبار میں آرمکو کی گا ڑی چلانے والیوں کا ذکرنہیں ہوا۔ جب میں نے اس مضمون کے سلسلے میں آرمکو کے سعودی افسر تعلقات عامہ سے بات کی تو وہ بہت ہی پریشان اور کچھ ناراض بھی ہوئے اور مجھے سختی سے منع کیا کہ میں یہ مضمون نہ لکھوں۔ انہوں نے مجھے قطعی کوئی اعداد و شمار نہیں دیئے کہ کتنی عورتوں کو یہ سہولت حاصل ہے۔

آرمکو کمپاؤنڈ کا قطر تقریباً دس میل کا ہے۔ وہاں جائیں تو ایسا لگتا ہے کہ آپ کسی مغربی ملک میں آگئے ہیں۔ سنیما تھیٹر سے لیکر، گاڑی میں دندناتی ہوئی عورتیں بغیر ابائے اور حجاب کے سب موجود ہیں۔

اس کمپاؤنڈ میں صرف ’ آرمکو‘ کے ساتھ کام کرنے والے رہتے ہیں۔ عورتیں چاہے کسی ملک سے تعلق رکھتی ہوں پاکستانی، ہندوستانی یا سعودی، سب گاڑی چلاسکتی ہیں بشرطیکہ ان کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک کا لائسنس ہو۔

ایک برطانوی شہری نے جو پچھلے بیس سالوں سے یہاں گاڑی چلا رہی ہے بتایا کہ ’یہاں کاغذات کی کوئی جانچ پڑتال نہیں ہوتی‘۔

’انیس سو اسی تک آرمکو خواتین کو لائسنس دیتی تھی لیکن اب صرف شناختی کارڈ ملتا ہے جو کہ ان کو بھی ملتاہے جو ڈرائیو نہیں کرتے۔ اس کا نقصان کہیں یا فائدہ اب ہر عورت جسے گاڑی چلانی آتی ہے اور اس کے پاس لائسنس نہیں بھی ہے تو وہ آرام سے گاڑی لیکر سڑکوں پر نکل جاتی ہے۔ میری سعودی پڑوسن کے پاس لائسنس نہیں ہے لیکن وہ بہت خود اعتمادی کے ساتھ روزانہ گاڑی چلاتی ہے۔ ویسے بھی آرمکو کی سعودی پولیس ہمیں کم ہی روکتی ہے‘۔

اگر عورت خود آرمکو میں کام نہیں کرتی اور اس کا چالان ہو جاتا ہے تو بھگتنا اسکے شوہر کو پڑتا ہے۔

مجھے ایک خاتون نے بتایا کہ وہ پچاس کلو میٹر کے زون میں ساٹھ کی رفتار سے گاڑی چلا رہی تھیں تو انھیں ٹکٹ مل گیا۔ اس میں پیسے نہیں دینے پڑے۔ ٹکٹ کی کاپی ان کے میاں کے دفتر میں گئی۔ انکے مینجر نے انہیں تنبیہ کی کہ بیوی کو سمجھانا کہ آئندہ احتیاط کرے ۔ میاں نےگھر آ کر بیوی کو ڈانٹ پلائی اور بس۔

عورتوں کے ٹریفک قوانین توڑنے پر انکے شوہروں کو پوائنٹس ملتے ہیں اور اگر زیادہ ہو جائیں تو انکی ترقی رک سکتی ہے۔یا کچھ دنوں کی تنخواہ بھی کٹ سکتی ہے۔

آرمکو کی خواتین ڈرائیور زیادہ ترخوش نظر آتی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتی ہیں کہ سعودی عرب کے سخت ماحول میں انہیں اتنی بڑی نعمت ملی ہے۔ لیکن دو پاکستانی نژاد امریکیوں کو کچھ شکایات ہیں۔

ایک کا کہنا ہے کہ: ’میں اس آٹھ دس میل کے پنجرے میں گاڑی چلا کر بور ہو جاتی ہوں۔ یہاں نہ اچھا مال ہے اور نہ اچھا ریسٹورنٹ۔ یہ تو بس صرف دل بہلانے کے لئے ہے کہ ہم عورتیں ڈرائیو کر رہی ہیں ۔ اپنی مرضی سے جہاں جی چاہے ڈرائیو نہیں کر سکتیں‘۔

دوسری خاتون نے ڈرائیوری کو ’آرمکو غلامی‘ کہا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں باہر رہتی تھی تو میرے پاس زیادہ وقت ہوتا تھا۔ ’ کام کاج کا، دوستوں سے ملنے کا۔ یہاں آ کر تو سارا کام میاں نے میرے سپرد کر دیا ہے۔‘

ابھی اور انتظار
آجکل سعودی عرب میں اصلاحات کی ہوا چلی ہوئی ہے لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ ڈرائیونگ کے لیئے ابھی عورتوں کو کافی انتظار کرناپڑے گا

ساری خواتین اس بات پر متفق تھیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ سعودی عرب میں کم از کم غیر ملکی عورتوں پر سے گاڑی چلانے کی پابندی ختم ہو جائے۔ لیکن یہ ساری خواتین ڈری ہوئی بھی تھیں۔ سب نے تصویریں دینے سے انکار کر دیا۔ بلکہ نام لکھنے سے بھی منع کر دیا انہیں خدشہ تھا کہ وہ کسی مصیبت کا شکار نہ ہو جائیں۔

انیس سو اکانوے میں پچاس کے قریب سعودی عورتوں نے، جو کہ پروفیسرز یا اساتذہ تھیں، ایک ساتھ گاڑیوں کا جلوس نکالا (خود چلاتے ہوئے) اور دارالحکومت ریاض کے بیچوں و بیچ گاڑیاں کھڑی کر کے ہارن بجا کر یہ مطالبہ کیا کہ انہیں ڈرائیونگ کی اجازت دی جائے۔

یہ بہت جراتمندانہ قدم تھا۔ انکو اسکی سزا بھی کڑی ملی ۔ سب کو جیل میں بند کر دیا گیا۔ بعد میں وہ رہا ہو کر آئیں تو نوکریوں سے برخواست کر دیا گیا اور ان کے پاسپورٹ ضبط کرلئےگئے۔ ان کے شوہروں کو بھی وارننگ ملی کہ اپنی بیویوں کو سنبھالیں۔

اس پورے واقع کی خبر سعودی عرب کےمیڈیا میں نہیں آئی۔ صرف امریکی اخباروں میں چھپی۔ سعودی عرب کے قانون کے تحت عورت گاڑی خرید سکتی ہے رکھ بھی سکتی ہے صرف چلا نہیں سکتی۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب حکمرانوں نے کئی دفعہ غیر ملکی صحافیوں کو دیا ہے۔

انکا یہ کہنا ہے کہ عورتوں کا گاڑی چلانا غیر اسلامی ہے نہ معیوب۔ لیکن سعودی معاشرہ ابھی اسکے لیئے تیار نہیں اور یہ کے اس میں بہت جھنجھٹ ہے کیونکہ اگر سعودی خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی تو ان کے لیئے خواتین پولیس بھی رکھنا پڑے گی۔

آجکل سعودی عرب میں اصلاحات کی ہوا چلی ہوئی ہے لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ ڈرائیونگ کے لیئے ابھی عورتوں کو کافی انتظار کرناپڑے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد