| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹماٹر کھاؤ، کینسر بھگاؤ
نئی تحقیق کے مطابق ٹماٹر کے کئی اجزاء پروسٹیٹ کینسر سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اب سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ٹماٹر میں پایا جانے والا صرف ایک کیمیاوی مادہ لائکوپین کینسر سے مدافعت کے اثرات رکھتا ہے۔ لیکن ایلنوا اور اوہیو یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹماٹر میں موجود کئی دیگر کیمیاوی اجزاء بھی اس عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے مجلے میں چھپنے والے تحقیقی مضمون میں کہا گیا ہے کہ صرف لائکوپین رکھنے والی غذاؤوں کے اثرات محدود ہوتے ہیں۔’ کینسر پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ پروفیسر جان ارڈمین کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں تھا کہ آیا لائکو پین خود مدافعتی کام کرتا ہے یا نہیں، لیکن نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لائکوپین پروسٹیٹ کینسر کے خطرے سے بچانے والے محرکات میں سے ایک ہے۔ نئی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایک پورا ٹماٹر کھانا لائکوپین پر مشتمل گولیاں کھانے سے زیادہ موثر ہے۔ ’ہمارے خیال میں لوگوں کو ٹماٹر کو پیستے، سلاد، ٹماٹر کے جوس اور پیزے میں ڈال کے استعمال کرنا چاہیے۔‘ امریکی یونیورسٹیوں میں کی جانے والی اس تحقیق میں تجربات میں استعمال ہونے والے چوہوں کو ایسے کیمیاوی مادے کھلائے گئے جو کینسر کا موجب بنتے ہیں۔ بعد میں ان چوہوں کو پورا ٹماٹر، خالص لائکوپین اور بغیر لائکو پین پر مشتمل غذائیں کھلائی گئیں۔ جن چوہوں کو ٹماٹر کا سفوس کھلایا گیا ان میں ٹماٹر نے کھلانے والے چوہوں کی نسبت کینسر سے ہلاکت کا خطرہ چھبیس فیصد کم ہوگیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||