| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حملہ آوروں کا اظہار افسوس
اگست میں انڈونیشیا کے شہر جکارتا کے میریٹ ہوٹل پر بم سے حملہ کرنے کے دو ملزموں نے اس حملے سے ہونے والی تباہی اور ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا ہے۔ طاہر نامی ایک ملزم نے انڈونیشیا کے ایس سی ٹی وی پر اس حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور حملے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے معذرت کی۔ ملزمان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بیان کسی دباؤ کے تحت نہیں دے رہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو خود اپنے عمل کے منفی اثرات اور تباہی کا احساس ہو چکا ہے۔ اسمٰعیل نامی دوسرے ملزم نے بھی ٹی وی پر کہا ’یہ میں نے کیا تھا اور مجھے اب اس کا افسوس ہے۔‘ اس حملے میں بارہ لوگ ہلاک اور تقریباً ڈیڑھ سو افراد زخمی ہوئے تھے۔ ان دونوں ملزموں کو بدھ کے روز بینڈنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان دونوں ملزموں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ بالی اور میریٹ بم حملوں میں مطلوب دو افراد کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ ان مطلوب افراد کا نام پولیس نے اظہری حسین اور نور الدین محمد بتایا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا تعلق جمعیہ اسلامیہ سے ہے۔ میریٹ بم حملے کے سلسلے میں اب تک چودہ افراد گرفتار ہوئے ہیں لیکن کسی پر فرد جرم نہیں عائد نہیں کی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||