| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان آئین: اسلامی جمہوریہ کی تجویز
افغانستان میں ملک کو اسلامی جمہوریہ بنانے کے لئے مسودہ آئین پیش کر دیا گیا ہے جس میں صدارتی نظام کی سفارش کی گئی ہے۔ اور تجویز کیا گیا ہے کہ تمام شہری مساوی حقوق کے حامل ہوں گے۔ اس مسودہ پر آئندہ ماہ لویا جرگہ میں غور ہوگا اور وہاں اس کی منظوری کے بعد ملک میں دو ہزار چار میں عام انتخابات کے لئے راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہ نیا آئین نئے سیاسی نظام اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ آئین کا یہ مسودہ کابل میں ایک تقریب میں ملک کے عبوری صدر حامد کرزئی کے حوالے کیا گیا۔ لویا جرگہ ملک کے علاقائی، صوبائی اور قبائلی رہنماؤں پر مشتمل ہے جن کی درمیان تضادات خاصے شدید رہے ہیں۔ ان دنوں اقوام متحدہ کا ایک وفد افغانستان میں موجود ہے تاکہ وہ لویا جرگہ کے ان رہنماؤں کو اس بات پر قائل کرسکے کہ وہ صدر حامد کرزئی کی حکومت کے امور چلانے میں ان کا ہاتھ بٹائیں۔ آئین کے اس مسودے میں اسلامی تعلیمات کے عین مطابق تمام شہریوں کے مساوی حقوق کا تحفظ کرنے والی اسلامی جمہوریہ کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس مسودے میں اسلامی قوانین کی سمت نشاندہی نہیں کی گئی ہے تاہم واضح طور پر کیا گیا ہے کہ ’اسلامی تعلیمات سے متصادم کوئی قانون نہیں۔‘ دیگر امور پر مختلف ضروریات کے ساتھ ساتھ خواتین کی تعلیم کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ مجلس آئین ساز کو آئین پر بحث کے لئے یہ مسّودہ گزشتہ ماہ پیش کردینا تھا تاہم چند تکنیکی وجوہات کی بنا پر اس میں تاخیر کے بعد اب اسے پیش کردیا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ملک میں جمہوریت کے قیام کے لئے افغانستان کے آئین کو ملک کی روایتی اقدار اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||