| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سزاؤں کی زد میں امریکی برطانوی
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سات امریکی اور ایک برطانوی سرکردہ ایتھلیٹ ممنوعہ دوا استعمال کرنے کے باعث نہ صرف پانے تمغوں سے محروم ہو جائیں گے بلکہ آئندہ مقابلوں میں حصہ نہ لینے کی پابندی کی زد میں بھی آ جائیں گے۔ اگست دو ہزار تین کے پیرس میں ہونے والے عالمی ایتھلیٹ مقابلوں میں تمغے حاصل کرنے والی امریکی خاتون ایتھلیٹ کیلی وائٹ کو دو طلائی تمغوں سے محروم کرنے کا معاملہ کم و بیش طے پا گیا ہے اور کہا جا رہا کہ سات سرکردہ امریکی اور ایک برطانوی ایتھلیٹ اس نوع کی خلاف ورزی کے مرتکب ثابت ہو سکتے ہیں۔ امریکی خاتون ایتھلیٹ کرسٹی گینز کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ اس پر امریکہ میں ہونے والی جولائی کی چیمپئن شپ میں ممنوعہ دوائیں استعمال کرنے کا الزام ثابت ہو چکا ہے اور ان پر بھی پابندی لگائے جانے کا امکان ہے جس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان سے وہ تمام اعزاز واپس لے لیے جائیں گے جو انہوں نے امریکہ ہی میں ہونے والے جولائی کے مقابلوں میں اور اس کے بعد حاصل کیے ہوں گے۔ کیلی وائٹ نے پیرس مقابلوں میں کئی اعزاز حاصل کیے تھے تاہم انہیں ان مقابلوں کے دوران ہی انہیں آخری مرحلے میں شریک ہونے سے روک دیا گیا تھا کیونکہ ان کے بی ٹیسٹوں سے یہ ثابت ہو گیا تھا کہ انہوں نے فوری طاقت دینے والی دوائیں استعمال کی ہیں۔
انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ایتھلیٹکس فیڈریشن نے اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ کیلی وائٹ کے لیے مجموعی طور پر کیا سزا تجویز کی جائے گی۔ ایسوسی ایشن کے ذرائع نے بتایا ہے کہ جن امریکی ایتھلیٹ کے ٹیسٹ مثبت ثابت ہوئے ہیں ان کی تعداد سات ہے تاہم اپنا نام ظاہر نہ کرنے والے ان ذریع کا کہنا ہے کہ ابھی سب کے نام منکشف نہیں کیے جا سکتے۔ ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ان ایتھلیٹ کے بی ٹیسٹ مثبت ثابت ہوئے تو ان پر ایک لاکھ ڈالر تک جرمانہ اور یہ پابندی بھی لگ سکتی ہے کہ وہ آئندہ کبھی کسی مقابلے میں حصہ نہ لے سکیں۔ اسی دوران برطانیہ کے سرِ فہرست ایتھلیٹ ڈوائن چیمبر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس پر ممنوعہ دوا استعمال کرنے کا الزام ثابت ہو چکا ہے تاہم اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اسے یہ علم نہیں تھا کہ کوئی ممنوعہ دوا استعمال کر رہا ہے۔ چیمبر کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ دواؤں کے استعمال میں احتیاط سے کام لیا ہے اور وہ آئندہ بھی کبھی ایسی کوئی دوا استعمال نہیں کرے گا جو ممنوعہ دواؤں کی ذیل میں آتی ہو۔ چیمبر کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نےمنتظمین کو دھوکہ دینے کے لیے جان بوجھ کر بالارادہ کوشش نہیں کی اور نہ ہی وہ اپنی کارکردگی کو بہتر ثابت کرنے کے لیے غیر قانونی طریقے استعمال کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے باوجود اگر چیمبر کے بی ٹیسٹ مثبت ثابت ہوئے تو انھیں عمر بھر اولمپک مقابلوں میں شرکت کی اجازت نہیں ہو گی یا ان پر کم سے کم دو سال تک کسی مقابلے میں حصہ نہ لینے کی پابندی لگ سکتی ہے۔ چیمبر اور امریکی کھلاڑیوں پر ایک نئی دوا استعمال کرنے کا الزام ہے۔ ٹی ایچ جی یا ٹیٹرا ہائیڈرو گیسٹری نون کہلانے والی اس دوا کے بارے میں، جس کے انکشاف نے دنیا بھر کے متعدد ایتھلیٹس کےلیے مشکلات پیدا کر دی ہیں، یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کے استعمال کا سراغ نہیں لگایا جا سکتا۔ بالکو لیبارٹریز کی تیار کردہ اس دوا کے بارے میں برطانوی ایتھلیٹ چیمبر کا کہنا ہے کہ اُسے اِس دوا کے استعمال کا مشورہ اُسے تربیت دینے والے ریمی کور چمنی نے دیا تھا۔ ٹی ایچ جی کے سراغ کا طریقہ بھی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر ڈون کیٹلین کا ایجاد کردہ ہے اور امریکی ایسوسی ایشن اس دوا کو استعمال کرنے والوں کے خلاف خود بھی سخت کارروائی کا فیصلہ کر چکی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||