| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اولمپک تاریخ کا سب سے بڑا مقدمہ
امریکی ریاست کولاراڈو کے شہر سالٹ لیک سٹی میں اولمپک کے انعقاد کے لئے بنائی گئی کمیٹی کے دو سابق عہدیداروں کے مقدمے کی سماعت کے آغاز سے اولمپک کھیلوں کی تاریخ میں بدعنوانی سے متعلق سب سے بڑے الزام کا سلسلہ ایک بار پھر کھلنے والا ہے۔ سالٹ لیک سٹی میں ہونے والے سن دو ہزار دو کے سرمائی اولمپک کی کمیٹی کے صدر ٹام ویلچ اور سینیئر نائب صدر ڈیو جانسن کو اولمپک کی بین الاقوامی کمیٹی کے دس ارکان کی رائے اپنے حق میں کرنے کے لئے رشوت ستانی کے الزام کا سامنا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ سن دو ہزار دو کے سرمائی اولمپک کھیلوں کا انعقاد سالٹ لیک سٹی میں کرانا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے اولمپک کی بین الاقوامی کمیٹی کے ارکان کو مختلف انداز سے رشوت پیش کی۔ دونوں عہدیداروں پر الزام ہے کہ انہوں نے دس لاکھ ڈالر مالیت کے فنڈز خرد برد کے ذریعے بدعنوانی اور رشوت ستانی کے لئے استعمال کئے۔ اس سلسلے میں ہونے والی ایک تحقیقات کے نتیجے میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے دس ارکان کو کمیٹی سے نکالا جاچکا ہے یا انہیں استعفیٰ دینے پڑے تھے۔ اولمپک کے سلسلے میں مالی تعاون کرنے والے اداروں نے کسی مصیبت کا شکار ہوجانے کے خوف سے دھمکی دی ہے کہ وہ اپنی رقم واپس لے لیں گے۔ اگرچہ ایک طویل و دشوار اصلاحاتی نظام کے قیام اور چھ ارکان کو بین الاقوامی کمیٹی سے نکالے جانے کے ذریعے کسی ممکنہ بڑی دشواری کے امکانات تو معدوم کردیئے گئے ہیں تاہم یہ سارا معاملہ اب تک اولمپک کھیلوں کی ایک سو نو سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ مشکوک رہا ہے۔ ٹام ویلچ اور ڈیوڈ جانسن دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے دس لاکھ ڈالر کی رقم اولمپک کی بین الاقوامی کمیٹی کے ارکان کی شاہ خرچیوں، مہنگے سفری اخراجات و میزبانی، ان کے علاج معالجے اور ان کے بچوں کے لئے بیش قیمت تحائف کی خریداری کے لئے استعمال کی تاکہ یہ ارکان سن دو ہزار دو کے سرمائی اولمپک کا انعقاد سالٹ لیک سٹی میں کرنے کے لئے اپنی رائے دیں۔ اس مقدمے میں وکلاء دفاع کا مؤقف ہے کہ اگرچہ اولمپک کمیٹی کو تحائف دیئے جانا ایک عام سی بات ہے تاہم اس کمیٹی کے ارکان اچھی طرح جانتے تھے کہ ان ساری مہربانیوں کے اصل مقاصد کیا ہیں۔ مقدمے میں مدعا علیہان کو پندرہ مختلف الزامات کا سامنا ہے جن میں سے ہر ایک کی سزا پانچ برس قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانہ ہے۔ توقع ہے کہ یہ مقدمہ چھ ہفتے جاری رہے گا جس میں عدالت فیصلہ کرے گی ان کی جانب سے دیئے جانے والے ان تحائف کا مقصد ارکان کی رائے اپنے مؤقف کے حق میں جھکانا تھا یا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||