| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاست کا خفیہ کھیل
امریکی کانگریس کی ایک اہم کمیٹی عراق کے خلاف امریکی سالاری میں لڑی جانے والی جنگ کے حوالے سے خفیہ معلومات کی کوالٹی پر کڑی تنیقد کرنے والی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سینٹ کی خفیہ کمیٹی کی تنقید کا مرکز سی آئی اے اور اس ادارے کے ڈائریکٹر جارج ٹینیٹ ہوں گے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ کمیٹی، سی آئی اے پر اس موقف کے ساتھ تنقید کرے گی کہ اس کی نگاہ میںصدام حسین کے خلاف جنگ کا معاملہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ تاہم کانگریس میں ریپبلیکن اراکین کی کوشش ہے کہ وہ اس رپورٹ کے ذریعے وائٹ ہاؤس پر لگنے والے الزامات پر سے توجہ ہٹا سکیں۔ بظاہر کمیٹی کے اراکین عراق کے خلاف جنگ سے قبل فراہم کی گئی واقعاتی شہادت اور خفیہ ذرائع سے جمع کی جانے والی معلومات پر حیران ہیں۔ اراکینِ کمیٹی کو بالخصوص ان معلومات پر حیرت ہے جن میں صرف ایک ہی ذریعے سے اطلاع حاصل کی گئی تھی یا جس اطلاع کے خلاف کوئی دوسرا نقطۂ نظر بھی تھا۔ واشگنٹن پوسٹ کے مطابق خفیہ معلومات جمع کرنے والی کمیٹی نے ان لوگوں کوصحیح اطلاع ہی نہیں دی جنہیں اطلاع کی ضرورت تھی۔کمیٹی کے چیئرمین پیٹ رابرٹس، جو حکمراں جماعت کے سینٹر ہیں، کہتے ہیں کہ انہیں خفیہ معلومات فراہم کرنے والوں پر اعتماد ہی نہیں رہا۔
لیکن امریکہ میں اپوزیشن پارٹی ڈیموکریٹ کے اراکین اس رپورٹ سے خوش نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس سلسلے میں بش انتظامیہ کے افسران سے مزید پوچھ گچھ کی جائے اور اس رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر کرائی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کے لئے جارج ٹینٹ تنقید کا بہت مفید ہدف ہیں کیونکہ سی آئی اے کے سربراہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہیں سابق صدر بل کلنٹن نے مقرر کیا تھا اور موجود حکومت نے انہیں قبول کر لیا ہے۔ حکومت بھی جارج ٹینٹ کو کسی بھی وقت قربانی کا بکرا بنا سکتی ہے کیونکہ وہ ماضی میں بھی بعض کوتاہیوں کا ذمہ اپنے سر لے چکے ہیں۔ حکومتی جماعت چاہتی ہے کہ یہ رپورٹ جلد سے جلد شائع ہوجائے تاکہ اگلے انتخابات سے قبل یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ چکا ہو۔ اب امکانی صورت یہ ہے کہ اگر حزبِ اقتدار اس رپورٹ کے معاملے کو کسی طرح ٹھنڈا بھی کر دے تب بھی اپوزیشن کے پاس نئی انکوائری کرانے کے لئے ضروری ووٹ موجود ہیں جس کے ذریعے وہ بش انتظامیہ کی کمزوریوں کو اجاگر کر سکتی ہے۔ ادھر سی آئی اے بھی اپنے دفاع میں مصروف ہے۔ یہ ادارہ ان چند خفیہ اداروں میں سے ہے جن کا پریس آفس ہے اور ایک ترجمان بھی مقرر ہے۔ سی آئی اے کے ترجمان بل ہارلو کہتے ہیں کہ کانگریس کی کمیٹی نے ابھی تک ادارے کا موقف پوری طرح نہیں سنا اور نہ جارج ٹینیٹ کی یہ پیشکش قبول کی ہے کہ انہیں کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا موقع فراہم کیا جائے۔ لہذا اب جوں جوں انتخابات قریب آتے رہیں گے، الزامات کے کھیل میں بھی شدت آتی رہے گی۔ تاہم امریکہ میں صورتِ حال برطانیہ سے مختلف ہے جہاں بعض مواقع پر خود وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔ اب بھی اکثر امریکی عراق پر جنگ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے ملنے یا نہ ملنے سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ البتہ انہیں اس بات پر تشویش ضرور ہے کہ جنگ کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ تام عراق کے خلاف جنگ کا معاملہ ابھی تک اتنا زیادہ گرم ہے کہ ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||