| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب: چھ ہزار ایڈز میں مبتلا
سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے کہا کہ انہوں نے ملک میں چھ ہزار سات سو ایڈز کے مریضوں کا پتا چلایا ہے جس میں سے پندرہ سو سعودی باشندے ہیں۔ انیس سو چوراسی میں سعودی عرب میں پہلے ایڈز کے مریض کا پتا چلا تھا۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق سن دو ہزار تک سعودی عرب میں کل چار سو چھتیس افراد ایڈز کے موزی مرض میں مبتلا تھے۔ گزشتہ سال دو سو مزید مریضوں کا پتا چلا۔ لیکن اب سعودی عرب کی وزراتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں ایڈز کے چھ ہزار سے زائد مریض موجود ہیں گو کہ ان میں سے زیادہ تر غیر ملکی باشندے ہیں۔ مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافے مریضوں کا پتا چلانے کا طریقہ کار بہتر بنانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ سعودی عرب کی وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پچانوے فیصد مریض جنسی بے راہوری کی وجہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں۔ سعودی عرب میں شرعی قوانین کے تحت شادی سے پہلے جنسی تعلقات رکھنا یا شادی کے بعد دوسرے لوگوں سے جنسی تعلقات قائم کرنا اور ہم جنسی پرستی قابل تعزیر جرم ہیں۔ ان اخلاقی جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے تحت قید، کوڑے اور سنگار جیسی سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے ایڈز میں مبتلا افراد کے لیے عوامی سطح پر کوئی ہمدردی نہیں پائی جاتی۔ اس سال کے شروع میں سعودی حکام کو ایک ایسے واقع کی تحقیقات کرانی پڑیں تھیں جس میں ایک ہسپتال پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے ایڈز کے ایک مریض کو نیم بے ہوشی کے عالم میں سڑک پر ڈال دیا تھا۔ ایک اخبار نے یہ خبر شائع کی تھی کے ہسپتال کے سیکورٹی کے عملے نے اس مریض کو اٹھاکر سڑک پر ڈال دیا تھا۔ سعودی عرب میں ایڈز کے مریضوں کے بارے میں اس کھلے اعتراف کو بدلتے ہوئے حالات کی ایک کڑی قرار دیا جا رہاہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||