| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’اسلام جمہوریت کے منافی نہیں‘
امریکی صدر بش نے انڈونیشیا کے جزیرہ بالی کے مختصر دورے کے اختتام پر کہا ہے کہ آزادی اور ترقی پسند اصول اسلام سے مطابقت رکھتے ہیں اور ان میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا خود اس بات کا جیتا جاگتا ایک مثال ہے کہ جمہوریت اور اسلام میں مطابقت ہے۔ صدر بش نے کہا کہ اسلام کا شمار دنیا کے بڑے مذاہب میں ہوتا ہے اور دہشت گردی اس مذہب کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو دہشت گرد کہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی اسلام کی خاطر کر تے ہیں وہ در اصل اسلام کی توہین کررہے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صدر بش یہ پیغام لے کر بالی آئے تھے کہ اسلامی شدت پسندوں کے خلاف لڑائی در اصل مذھبی رواداری قائم کرنے کی لڑائی ہے۔ صدر بش نے منگل کو انڈونیشیا کے جزیرہ بالی کا مختصر دورہ کیا جس کو حکام ایک ’علامتی قدم‘ قرار دے رہے ہیں۔ پچھلے سال بالی کے بم حملوں میں دو سو دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ صدر بش کا بالی کا تین گھنٹے کے دورہ کا مقصد ایک طرح سے انڈونیشیا کی انسداد دہشت گرد پالیسی کی حمایت ظاہر کرنا ہے۔ اس دورے میں صدر بش نے انڈونیشیا کی صدر میگاواتی سکارنوپتری سے بھی ملاقات کی۔ صدر بش مسلمان علماء سے بھی ملاقات کرنے والے تھے۔ بالی میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی نے بتایا ہے کہ جزیرے میں حفاظتی اقدامات سخت کر دئے گئے ہیں۔ پچاس ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں اور اس کے علاوہ ساحل پر جنگی بحری جہاز موجود ہیں اور ہیلی کاپٹر گشت کر رہے ہیں۔ جس ہوٹل میں صدر بش کا قیام تھا اس کی بھی ناکہ بندی کر دی گئی تھی۔ ہوٹل میں ٹہرے ہوئے مہمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ یا تو وہ اپنے کمروں کے اندر ہی رہیں یا پھر صدر کے دورے کے دوران جزیرے کے ایک خصوصی ’ٹوئر ‘ پر چلے جائیں جس کا انتظام ہوٹل نے کیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار روب واٹسن نے بتایا ہے کہ امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکار نہیں چاہتے تھے کہ صدر بش بالی جائیں لیکن یہ صدر کی اپنی مرضی تھی۔ منگل کو جکارتا میں امریکی سفارتخانے کے سامنے کئی سو طلبہ نے مظاہرہ کیا تھا اور ’بش دہشت گرد ہے‘ جیسے نعرے لگائے تھے۔ بالی سے صدر بش آسٹریلیا کے دار الحکومت کینبرا روانہ ہونگے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||