BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2003, 14:16 GMT 18:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعظم طارق جھنگ میں سپرد خاک، ہنگامہ آرائی
اعظم طارق
اعظم طارق کو گزشتہ روز اسلام آباد میں قتل کیا گیا۔

گزشتہ روز اسلام آباد میں چار محافظوں سمیت ہلاک ہونے والے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما مولانا اعظم طارق کو دارالحکومت اسلام آباد سے ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ان کے آبائی قصبے جھنگ میں سپردخاک کردیا گیا ہے۔

اس موقع پر مختلف اضلاع میں ہونے والی ہنگامہ آرائی میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے جبکہ احتجاج و تشدد کے دوران املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

مولانا اعظم طارق کی تدفین مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے کی گئی۔انہیں جھنگ کی جامع محمودیہ مسجد کے احاطے میں کالعدم سپاہ صحابہ کے بانی حق نواز جھنگوی کی قبر کے برابر میں دفن کیا گیا ہے۔

نماز، جلوس جنازہ اور تدفین میں مولانا اعظم طارق کہ ہزاروں معتقدین اور ان کی جماعت کے کارکنوں کی بھی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ اس دوران وہاں تعینات پولیس کی بھاری جمیعت کو ہوا میں گولیاں چلا کر ان افراد کو منتشر بھی کرنا پڑا جنہوں نے راستے میں ایک شیعہ مسجد کو آگ لگانے کی کوشش کی۔

پولیس کو، جسے نیم فوجی رینجرز اور فوجی دستوں کی بھی پوری مدد حاصل تھی وہی پوری مشق ایک بار پھر دہرانی پڑی جو اس سے قبل شیخ حق نواز کی آخری رسومات کے موقع پر کی گئی تھی۔

شیخ حق نواز کو انیس سو نوے کی دہائی کے آغاز میں ایرانی سفارتکار صادق گنجی کی قتل کا جرم ثابت ہونے پر میانوالی جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔

مولانا اعظم طارق کی تدفین کے موقع پر جھنگ میں ہڑتال بھی ہوئی اور پتھراؤ کے واقعات بھی پیش آئے۔

مظاہرین نے تھانہ کوتوالی کے قریب واقع ایک مکان میں واقع امام بارگاہ کو نذر آتش کردیا اور پولیس کے ایک ویلفیئر پٹرول پمپ کو آگ لگا دی۔

ہجوم نے قصر زہرا نامی ایک اور امام بارگاہ پر بھی حملے کی کوشش کی لیکن جب جواب میں وہاں سے گولیاں چلائی گئیں تو ہجوم اس پر حملہ نہیں کرسکا۔

مشتعل ہجوم کے ایک اور گروہ نے نواز چوک پر واقع وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے مکان پر پتھراؤ کیا اور ایک قریبی دکان کو لوٹ لیا۔

ہجوم نے شہر کے سینٹرل ٹیلیگراف آفس میں توڑ پھوڑ کی اور جگہ جگہ بجلی، گیس کے میٹر، سائن بورڈز، بینک اور دکانوں کے شیشوں اور سامان پر پتھراؤ کرکے توڑنے کی کوشش کی۔

جھنگ ہی میں مظاہرین نے ایک اور پٹرول پمپ کو آگ لگانے کی کوشش کی اور اس کے سامان کو نقصان پہنچایا۔ جب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوا میں گولیاں چلائیں تو مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔ ان جھڑپوں میں بعض پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

پونے ایک بجے کے قریب ایک مشتعل ہجوم نے وقاص کالونی، خاکی شاہ روڈ اور جھنگ صدر میں شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے دو افراد کے مکانوں پر بھی پتھر پھینکے۔

مولانا اعظم طارق کے آبائی گاؤں ایک سو گیارہ سیون آر میں ان کی رہائش گاہ پر تعزیت کرنے کے لیے آنے والے لوگوں کا ہجوم رہا اور چیچہ وطنی شہر اور نواحی علاقوں میں میں کاروبار بند رہا۔

بھکر کے نواحی قصبہ دریا خان میں بھی ہڑتال ہوئی اور شہر میں پولیس کی بھاری نفری متعین رہی۔

احتجاج کا سلسلہ تو صبح سے اسلام آباد میں بھی شروع ہوگیا تھا جہاں ہجوم نے قومی اسمبلی کی عمارت کے سامنے اعظم طارق کی نماز جنازہ پڑھائی گئی۔

نماز جنازہ کے بعد لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے انتقامی نعرے بازی شروع کر دی۔ اس کے بعد شرکاء نے ایک جلوس کی شکل اختیار کرلی اور شہر میں توڑ پھوڑ شروع کر دی اور ملک کی شیعہ اقلیتی آبادی کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

مشتعل ہجوم نے پارلیمان کے سامنے ایک پولیس کی گاڑی پر پتھراؤ کیا جس سے اس کے شیشے ٹوٹ گۓ۔ اعظم طارق کے جنازے کے بعد ہجوم نے میلوڈی سینما جلا دیا اور آب پارہ پر ایک پیٹرول پمپ کو آگ لگادی، ایک ہوٹل پر توڑ پھوڑ کی اور کئی دکانوں کے شیشے بھی توڑ دیئے۔

اس ہجوم نے ایک امام بارگاہ کو بھی آگ لگائی اور اس کے چندہ باکس کو توڑ کر پیسے لوٹ لیے۔ ڈیڑھ گھنٹے کے مظاہرے کے بعد پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی تو ہجوم منتشر ہوا۔ ان منتشر مظاہرین نے پٹرول پمپ سے ڈرم اٹھا کر آب پارہ چوک میں پھینک دیئے اور تیل سے ٹائر جلا کر سڑک پر ٹریفک کی آمد و رفت بند کردی۔

بعد میں میلوڈی سینما میں احتجاجی مظاہرین کے ہاتھوں لگنے والی آگ سے دم گھٹ جانے والا شخص محمد نوید ہسپتال میں دم توڑ گیا جبکہ دو اور زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی دکانیں بند رہیں اور کئی مقامات پر گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ سرکاری اور تعلیمی اداروں میں حاضری کم رہی۔ شہر میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس کے دستے تعینات رہے۔

صوبۂ سرحد میں ڈیرہ اسماعیل خان میں کاروباری اور تعلیمی ادارے بند رہے اور احتجاجی جلوس نکالے گۓ۔

فیصل آباد میں ملت اسلامیہ پارٹی (سپاہ صحابہ پر پابندی لگنے کے بعد قائم ہونے والی جماعت جس کے سربراہ بھی اعظم طارق ہی تھے) کے کارکنوں نے بازار بند کرائے لیکن دوپہر تک دکانیں دوبارہ کھل گئیں۔

جھنگ ، ٹیکسلا، چنیوٹ ، چیچہ وطنی، سرگودھا ، خوشاب، بھکر ، شور کوٹ، میلسی، کروڑ پکا اور حاصل پور میں دکانداروں کی ہڑتال ہوئی اور مظاہرے کیے گۓ۔

اس سے پہلے ساڑھے تین بجے جھنگ میں مولانا کی دوسری نماز جنازہ پڑھائی گئی جس میں پندرہ ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سپاہ صحابہ کے کارکن دھاڑیں ماڑ مار کر رو رہے تھے۔ اعظم طارق کی میت کو سپاہ صحابہ کے پرچم میں لپیٹا گیا اور شیشے کے تابوت میں رکھا گیا تھا۔ جنازہ کے جلوس میں آٹھ ہزار کے قریب لوگوں نے شرکت کی۔

جھنگ کی ضلعی انتظامیہ نے اس موقع پر ضلع بھر میں کاروبار بند رکھنے کا حکم دیا تھا جبکہ ضلع بھر کے تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک کے لئے بند کردیئے گئے ہیں۔

ملک کے تقریباً چھ اضلاع میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس کی اضافی نفری طلب کرکے ایرانی قونصل خانے اور ایرانی صقافتی مرکز سمیت تمام حساس مقامات پر تعینات کردی گئی ہے۔

گزشتہ شب بعض دینی مراکز کے باہر بعض احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے جن میں درجنوں کارکنوں نے شرکت کی۔

منگل کی صبح شہر کے وسط میں واقع ریگل چوک پر ایک مسجد کے باہر ایک درجن کے قریب کارکن جمع ہوئے جنہوں نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے لئے نعرے لگائے۔ تاہم اس احتجاج میں عوامی شرکت برائے نام رہی اور لاہور میں معمولات زندگی اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق رہیں۔

پولیس نے کہا ہے کہ تشدد کے واقعات میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے زخم کتنے سنگین ہیں۔

نماز جنازہ کے بعد مولانا اعظم طارق کی میت تدفین کے لئے جھنگ پہنچائی گئی جہاں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد