BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2003, 21:33 GMT 01:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اور جنگ جیتو گے؟

امریکی ساخت کے بی باون جنگی طیارے

آج کے امریکی اخبارات میں ایک خبر ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔

ہر برس ساس سسر، نرسوں سیکرٹریوں اور پالتو جانوروں تک کے خصوصی دن منانے والا ملک، اور اس پر ہفتوں پہلے سے واویلا کرنے والا میڈیا یہ بھول گیا کہ سات اکتوبر افغانستان پر امریکی حملے کا دن ہے۔

دو برس پہلے اسی دن دنیا کے غریب اور پسماندہ ترین ملک کی بے دست و پا طالبان فوج اور بندوقوں، کلہاڑیوں اور تلواروں سے مسلح ان کے پاکستانی حامیوں کی سرکوبی کے لئے امریکہ نے بی باون طیارے بھیجے جو ازمنہ قدیم کے ان جنگجوؤں کی پہنچ سے بہت دور رہتے ہوئے ان پر اتنے وزنی اور خطرناک بم گراتے رہے جنہوں نے پہاڑوں کا بھی سرمہ بنا دیا، اور ایسے خوبصورت رنگوں والے کلسٹر بم جو اس وقت نہ پھٹے تو اب دو سال بعد تک پہاڑوں اور میدانوں میں بچوں کو لالچ دلا کر ان کی جانیں لے رہے ہیں۔

امریکی عوام امن پسند لوگ ہیں۔ جنگ شروع کرنے کے بارے میں ان کے کوئی طے شدہ نظریات نہیں ہیں لیکن جب لڑائی شروع ہو جائے تو وہ دو چیزوں کا مطالبہ کرتے ہیں: ایک یہ کہ جنگ جلد از جلد ختم ہو جائے، اور دوسرا اس میں جیت ان کی ہو۔ لہذا اس بات سے بے خبر، یا اس کے باوجود کہ یہ ہاتھی کا چیونٹی سے مقابلہ تھا، امریکیوں نے اس فٹافٹ جیت کو اپنی فتوحات کے سلسلے میں ایک اور اضافہ، اور اس بات کا ثبوت جانا کہ خداوند خدا ان سے خوش ہے۔

اپاچی ہیلی کاپٹر

تو اس فتح کا جشن ہر سال کیوں نہیں منایا جاتا؟ یا کم از کم اس دن اپنے کارناموں کی یاد کیوں نہیں تازہ کی جاتی؟ اپنے شہیدوں کی بہادری کا ذکر کیوں نہیں کیا جاتا؟

شاید اس لئے کہ بیشتر امریکی شہید (اور تقریباً سبھی کینیڈین شہید) امریکی فوجیوں ہی کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ شاید اس لئے بھی کہ جنگ کی بات کرنے سے اس کے ایک بڑے مقصد کا ذکر بھی آ سکتا ہے جو صدر بش کے الفاظ میں اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی گرفتاری تھا، اور اس میں ناکامی کے ذکر سے امریکہ میں کسی کو خوشی نہیں ہو گی۔ اور رہے وہ فوجی جنہوں نے براہ راست ٹنوں وزنی بم پھینکے، تو انہیں اس بات کا پورا یقین تھا کہ نیچے سے کوئی توپ انہیں نشانہ بنانے کے لئے موجود ہے نہ ہی ہوا میں کوئی طیارہ۔ تو کہاں کی بہادری، کونسے کارنامے! اس جنگ کے واقعات تو امریکی پائلٹ اپنے بچوں کو سنانے سے بھی شرمائیں گے۔

رہے امریکی عوام تو انہیں یہ سب جاننے کی خواہش بھی نہیں۔ انہوں نے اپنی فتح پر خوشی منائی اور مزید خوشیوں کی تلاش میں آگے نکل گئے۔ لیکن افغانستان وہیں کھڑا ہے۔

وہی بھوک، وہی افلاس، وہی بدحالی، وہی بدامنی، ناانصافی اور ظلم جس نے سن چورانوے کے آس پاس طالبان تحریک کو جنم دیا تھا۔انسانی ہمدردی کا کام کرنے والی تنظیموں نے ایک سے زیادہ رپورٹوں میں دعویٰ کیا ہے کہ آج امریکہ کے زیر تسلط افغانستان میں عورتوں، لڑکیوں اور لڑکوں کی عصمت دری طالبان کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، پوست کی کاشت ایک بھر بڑھ گئی ہے، سڑکوں پر دوبارہ ڈاکوؤں کا راج قائم ہو گیا ہے، پاکستان اور ایران سے افغان پناہ گزینوں کو واپس ان کے وطن دھکیلا جا رہا ہے جہاں نہ ان کے سر پر چھت ہے نہ کھانے کو روٹی، جہاں دکانوں میں مجبوری بکتی ہے اور کھیتوں میں بارودی سرنگیں اگتی ہیں۔

طالبان نے اپنے دور حکومت میں حقوق انسانی کو اکثر پامال کیا تھا، وہ عورتوں کی تعلیم ہو، گناہگار کو سزا دینے کا معاملہ یا بدھا کے مجسمے کا قضیہ۔ وہ آج کی دنیا کو صدیوں پرانے طریقے سے چلانا چاہتے تھے، اس لئے ان کی ناکامی پر پوری دنیا نے اطمنان کا سانس لیا۔ اب اس دنیا کو یہ بھی جاننا پڑے گا کہ ان جنگلیوں نے لوگوں کی جان و مال اور عزت کی رکھوالی بھی کی تھی۔

اور یہ بھی کہ امریکی ڈالر سے خریدے گئے افغان جنگجو سردار کل بھی قاتل اور لٹیرے تھے اور آج وزیر دفاع اور صوبائی گورنر بن کر بھی وہی ہیں۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ امریکی سیکشن افسروں کی اشیرواد سے بننے والے یہ اہلکار آج گلی سے کسی بھی عورت، مرد یا بچے کو تاوان اور ہوس کے لئے اٹھا لے جا سکتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔

افغان عورتوں کی تنظیم ’روا‘ جس نے طالبان کے دور میں عورتوں کو دبائے جانے کی ہر کوشش کا بہادری سے مقابلہ کیا تھا، اب خوفزدہ ہے۔ تنظیم کی ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ طالبان تو صرف خواتین کے گھر سے باہر نکلنے پر سختی کرتے تھے لیکن اب تو عورتوں کو اپنی جان اور عصمت گھر کی چار دیواری میں بھی خطرے میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگجو سرداروں نے غنڈے پال رکھے ہیں جو کسی کو بھی اٹھا لے جاتے ہیں اور جب تک تاوان ادا نہیں ہوتا اس سے جبری مشقت لیتے ہیں۔

فاتح کی مجبوری
جدید ترین ہتھیاروں اور حفاظتی آلات سے لیس یہ فوجی دارالحکومت کابل کے اندر ہی دبک کر رہنے میں عافیت جانتے ہیں

’فاتح‘ فوج آج بھی افغانستان میں ہے۔ ساڑھے گیارہ ہزار فوجی اور ہزاروں ٹن اسلحہ۔ لیکن یہ فوجی اپنا دفاع کریں یا ان کمزوروں کا! جدید ترین ہتھیاروں اور حفاظتی آلات سے لیس یہ فوجی دارالحکومت کابل کے اندر ہی دبک کر رہنے میں عافیت جانتے ہیں۔ کابل میں نئی عمارتیں بن رہی ہیں، شراب خانے کھل چکے ہیں، انواع و اقسام کے کھانے باآسانی دستیاب ہیں، اور فوجیوں کی بیویوں کے لئے شاپنگ کے ہزار مواقع بھی ہیں۔ لیکن کابل سے باہر کی دنیا آج بھی ان سورماؤں کے لئے خوف سے بھرپور ہے۔

اور یہ خوف کچھ ایسا بلا جواز بھی نہیں۔ اگر تاریخ کا کام صرف خود کو دہرانا ہی ہے تو افغانستان کے دور دراز علاقوں میں ظلم و زیادتی اور بڑھے گی، اور اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ ایک اور ملا عمر جنم لے گا، جو طالبان جیسی ایک اور ملیشیا بنائے گا اور ایک اور جہاد شروع ہو گا، ظالم سرداروں کے خلاف اور پھر ان کے امریکی سرپرستوں کے خلاف۔

کیا امریکہ وہ جنگ بھی جیتنا چاہے گا؟

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد