| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی صدر کی امریکہ کو نصیحت
روسی صدر ولادمیر پوتن نے امریکہ کو خبر دار کیا ہے کہ وہ عراق میں اسی طرح ایک بے مقصد، طویل اور پر تشدد لڑائی میں ملوث ہو گیا ہے جس طرح روس افغانستان میں الجھ گیا تھا۔ روسی صدر نے امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کہ امریکہ کو عراق کی خود محتاری عراقی عوام کو دے دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بلکل اسی طرح عراق میں پھنستا جارہا ہے جس طرح روس افغانستان میں پھنس گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں صدر جارج بش کی انتظامیہ کو فوری طور پر اقدامات کرنے چاہیں اور عراقی عوام کو خودمختاری دے دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اقوام متحدہ سے ایک نئی قرار داد بھی منظور کر لینی چاہیے۔ روسی صدر نے اس امریکی دعویٰ کی تردید کی کہ سابق عراقی صدر صدام حسین کی حکومت کے اسلامی انتہا پسند تنظیموں سے روابط تھے۔ انہوں نے کہا کہ عراق پر امریکی حملے سے عراق دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کا گڑھ بن گیا ہے۔ انہوں نے بغیر نام لیے کہا کہ عراق پر امریکی حملے کے بعد بہت سی بین الاقوامی شدت پسند تنظیمیں عراق پہنچ گئی ہیں۔ روسی صدر نے پہلی دفعہ یہ اشارہ دیا کہ جو آٹھ ارب ڈالرروس نے عراق سے لینے ہیں ان میں یہ کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہے اگرچہ پیرس کلب کے باقی ارکان بھی اس سلسلے میں کچھ نرمی برتنے پر تیار ہو جائیں۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مقامی آبادئی کا اس فوج کی طرف کیا ردِ عمل ہونا چاہیے جس کو سرکاری طور پر قابض فوج کا نام دیا گیا ہے۔ روسی صدر نے پیشن گوئی کرتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ امریکی فوج پر حملے بڑھتے جائیں گے۔ اس طویل انٹرویو میں روسی صدر امریکہ کی چیینیا کے بارے میں پالیسی پر خاصے برہم تھے۔ چیچنیا کے مسئلہ پر امریکہ کی طرف سے کی جانے والی شکایات پر انہوں نے تنقید کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||