| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
معائنہ کاری کے لئے نئی ایرانی شرائط
ایران کے ایک اعلیٰٰ مذہبی رہنما نے اقوام متحدہ کی طرف سے ملک کی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لئے چار نئی شرائط کا اعلان کیا ہے۔ ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کی طرف سے اعلان کردہ نئی شرائط میں ایران کی سلامتی اور غیر فوجی مقاصد کے لئے جوہری جاری رکھنے کے بارے میں ضمانت شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے کے حکام ایران کو اپنی جوہری نتصیبات کی زیادہ سخت معائنہ کاری پر راضی کرنے کے لئے تہران میں ہیں۔ اقوام متحدہ نے ایران کو اکتیس اکتوبر تک کی مہلت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی ادارے کو اس بارے میں مطمئن کرے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں تیار کر رہا۔ مسٹر ہاشمی رفسنجانی نے نئے شرائط کا اعلان تہران یونیورسٹی میں اپنے جمعہ کے خطبے میں کیا۔ اس خطاب کو ایرانی ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر بھی کیا گیا۔ مسٹر رفسنجانی کی طرف سے اعلان کردہ پہلی شرط یہ ہے کہ ایران کی قومی سلامتی کو کوئی زک نہیں پہنچائی جائے گی۔ دوسری شرط میں کہا گیا ہے کہ ایران کی اسلامی روایات اور متبرک مقامات اس معائنہ کاری سے متاثر نہیں ہوں گے۔ تیسرے شرط میں کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے غیر متعلق فوجی راز افشا نہیں کئے جائیں گے۔ چوتھی اور آخری شرط میں کہا گیا ہے کہ دیگر ممالک غیر سیاسی مقاصد کےلئے قائم کئے گئے ایرانی جوہری پروگرام کو ترقی دینے میں مدد فراہم کریں گے۔ مسٹر رفسنجانی کے مطابق ایران بھی اسی طرح کی یقین دہانی چاہتا ہے جس کی تمنا امریکہ کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری پروگرام کے سلسلے میں ایران پر ڈالا جانے والا دباؤ ایک سکینڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسٹر ہاشمی رفسنجانی کے مطابق امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کی دوہرے معیار پر مبنی پالیسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا نئی شرائط کو اس ایرانی قیادت کی حمایت بھی حاصل ہے یا نہیں جو جمعرات سے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے حکام کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||