BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 October, 2003, 13:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت کا ’کمپیوٹرائزڈ‘ قصبہ

کمپیوٹر کا فائدہ سب اٹھا رہے ہیں
پنچایت کے دفتر میں سب کام کمپیوٹر سے ہوتا ہے

بنگلور کے مضافات میں بسا چھوٹا سا قصبہ بیلندور آج سارے بھارت کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

آج سے دس برس قبل بیلندور صرف اپنی خوصورت بیلندور جھیل کے لئے مقامی طور پر مشہور تھا جہاں گرمیوں میں سائیبیریا سے مرغابیاں انڈے دینے اور افزائشِ نسل کے لئے آیا کرتی تھیں اور پھر ان کے نوزائیدہ بچوں میں پرواز کی صلاحیت پیدا ہوتے ہی وہ واپس چلے جایا کرتی تھیں۔

مگر آج بیلندور ایک دوسرے قسم کی سائبر سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ بھارت کا پہلا قصبہ ہے جہاں پنچائتی سرگرمیوں کو انفوٹیک سے مربوط کر کے جمہوری عمل کو عوامی سطح تک لایا جا رہا ہے۔

چھ برس قبل اس گاؤں کی پنچایت کے اس وقت کے صدر کے جگن ناتھ نے تمام پنچائتی کاروائیوں، حسابات اور پنچائتی مجلس کی کاروائی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وسائل سے باہم مربوط کرنے کا عزم کیا۔ آج اس قصبے میں واقع تمام کام کمپیوٹروں سے انجام دئیے جاتے ہیں۔ زمینوں کے ریکارڈ، لگان کی ادائیگی، گھروں کے ٹیکس، پنچایت کے حسابات، پنچایت کی کارروائی کی روداد، مختلف افتتاحی سکیموں سے استفادہ کا بیورو، گھروں کے پلاٹوں اور مردم شماری کے اعداد و شمار، زمینوں کے کھاتے، کھاتوں کی تقسیم کے نتیجے میں آنے والی تبدیلیوں کو کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پنچایت کے سبھی گھرانے اپنے گھریلو ٹیلی فونز پر یہ کاروائی سن سکتے ہیں۔ مگر اس سے بھی آگے یہ ساری تفصیلات کنڑا زبان کے خصوصی سافٹ ویئر پیکج کے ذریعہ مہیا کی جاتی ہیں۔

پیلندور پنچایت پانچ گاؤں پر مشتمل ہے جن کے نام بیلوندر، ہلورا، امبلی پورہ، کاری منا اگراہرا اور دیوار بسن ھلی ہیں۔ ان کی مجموعی آبادی پانچ ہزار سے کچھ زائد ہے۔ بیلوندر بنگلور سے کوئی اٹھارہ کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق میں واقع ہے اور اس کی زیادہ تر آبادی کسانوں یا مل مزدوروں پر مشتمل ہے۔

کمپیوٹر قصبہ
ہر کام کمپیوٹر سے ہوتا ہے

جگن ناتھ جب انیس سو ستانوے میں پنچایت کے صدر چنے گئے تو ان کی توجہ پنچایت دفتر کی دستاویزات کی طرف گئی۔ انہیں احساس ہوا کہ کسانوں کو ذرا ذرا سی تحریری ضرورتوں کے لئے شہر جانا پڑتا ہے جہاں ٹائپ رائٹر یا کمپیوٹر دستیاب ہوتے ہیں۔ پھر کاغذی دستاویزات کی مختصر عمر اور ان کے تحفظات کی مشکلات بھی ایک مسئلہ تھا۔

جگن ناتھ کا خیال تھا کہ بنگلور کو بھارت کا سافٹ ویئر اور انفوٹیک کا دارالخلافہ کہا جاتا ہے اس لئے کیوں نہ بیلندور کے پنچایتی نظام کو کمپیوٹر اور انفوٹیک کی سہولتوں سے لیس کیا جائے۔

جگن ناتھ نے نومنتخب اراکین پنچایت کو سارے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنے پر رضامند کر لیا۔ انیس سو ستانوے میں ہی پانچ کمپیوٹر خریدے گئے اور تمام زمینوں اور لگان سے متعلق ریکارڈ کو ان میں مخفوظ کرنے کا کام شروع کر دیا گیا۔ اس کے بعد فلاحی منصوبوں کی باری آئی اور رفتہ رفتہ پیلوندر پنچایت کا سارا نظام کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا۔ پنچایت کی نومنتخب صدر سوبھا گیا وتی اب حسب خواہش ڈیٹا حاصل کر سکتی ہیں۔

اس کمپیوٹرائزڈ نظام کو دیکھنے کی خاطر راجستھان، کیرالہ، ہماچل پردیش اور کئی دیگر ریاستوں اور شہروں سے کئی وفود یہاں آچکے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی دستاویزی فلمیں بنانے والی فلم کار جین لپ مین نے اس پنچایت کے کام کاج کی فلم بندی بھی کی ہے۔

سوبھا گیا وتی اپنے پیش رو کے جگن ناتھ کی بڑی تعریف کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کمپیوٹر کی آمد سے پہلے پنچایت کو اپنا ریکارڈ رکھنے کےلئے ہر ایک روپے کے ٹیکس پر ڈیڑھ روپے تک خرچ کرنا پڑتے تھے لیکن اب یہ خرچ کم ہو کر نصف روپیہ تک رہ گیا ہے۔

جگن ناتھ نے بتایا کہ انیس سو ستانوے سے دو ہزار تک ان کے دور میں پنچایت کے محصول میں زبردست اضافہ ہوا اور فی الوقت پنچایت کو سالانہ ایک کروڑ ستر لاکھ روپے وصول ہوتے ہیں۔ جگن ناتھ چاہتے ہیں کہ گاؤں کے پنچایتی سکول اور مطب میں بھی کمپیوٹر نصب کئے جائیں۔

سائبر قصبے کے فائدے
پنچایت کی کارروائی ٹی وی پر دیکھی جا رہی ہے

گاؤں کے تمام لوگ جگن ناتھ کی خدمات کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق زمینوں کے کھاتے ٹرانسفر کرنا، والدین کی جائیداد کی تقسیم اور پنچایت سے نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا بے حد سہل ہوگیا ہے۔

گاؤں کے کسان وینکٹ سامی، راجنا اور جنار دھن سبھی جگن ناتھ کے لائے انقلاب سے مسرور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گاؤں کی ڈیئری، لائبریری اور جانوروں کے ہسپتال اور کوآپریٹو سوسائٹی، سبھی جگہ کمپیوٹر کی تنصیب کے خواہش مند ہیں۔

ان انقلابی تبدیلیوں کی وجہ سے اب ایک عدد نجی فرم نے یہاں سائبر مرکز بھی قائم کر لیا ہے۔

پنچایت کی صدر محترمہ سوبھا گیا وتی پنچایت کا ای میل پتہ ایک پرزے پر لکھ کر دیتی ہیں۔bellandur@mantramail.com

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد