BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 October, 2003, 08:08 GMT 13:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: فوجی سمیت تیرہ ہلاک
صدر مشرف
گزشتہ دنوں القاعدہ کی مبینہ ٹیپ میں جنرل مشرف پر اسلام سے غداری کا الزام لگایا گیا تھا

پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ القاعدہ کے خلاف شمالی وزیرستان میں کی جانے والی کارروائی کے دوران تنظیم کے کم از کم بارہ مشتبہ ارکان کو ہلاک کردیا گیا ہے جبکہ کئی کو گرفتار کیا گیا ہے۔

فوج کے ایک ترجمان کے مطابق ہلاک اور گرفتار شدگان میں سے بیشتر غیر ملکی دکھائی دیتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق آپریشن کے دوران ایک پاکستانی فوجی بھی ہلاک ہوا۔

پاکستانی فوجیوں نے القاعدہ کے مشتبہ مفرور ارکان کو گرفتار کرنے کے لئے افغانستان کے ساتھ سرحد کے قبائلی علاقے میں بڑا آپریشن شروع کیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے کارروائی کے دوران ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا ہے جبکہ جھڑپ ابھی بھی جاری ہے۔

فوجی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ فوج کو مخالفین کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

جس علاقے میں فوجی کارروائی کی جارہی ہے وہ افغان صوبے پکتیکا کے ساتھ سرحد پر واقع ہے اور یہ علاقہ سابق طالبان جنگجوؤں کا مرکز خیال کیا جاتا رہا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس آپریشن میں سینکڑوں فوجی شامل ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران مشتبہ القاعدہ کے ارکان کے خلاف یہ سب سے بڑی کارروائی ہے۔

پاکستانی فوج کے اعلیٰ ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے تمام علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جس سے القاعدہ کے مشتبہ ارکان کے لئے فرار ہونا انتہائی مشکل ہے۔

میجر جنرل شوکت سلطان نے خبر رسان ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ آپریشن ان بیرونی عناصر کے خلاف ہے جو افغانستان میں اتحادی افواج پر حملوں میں ملوث ہیں اور جو مقامی باشندوں کی زندگی بھی مشکل بنا رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کا قبائلی علاقہ قدامت پسندوں کا علاقہ ہے جو روایتی طور پر طالبان اور القاعدہ کی حمایت کرتے آئے ہیں۔

دریں اثناء دو اعلیٰ امریکی اہلکاروں رچرڈ آرمیٹج اور کرسٹینا روکا نے اپنا پاکستان کا دورہ مؤخر کردیا ہے۔

افغانستان کے موصول ہونے والے اطلاعات کے مطابق حکام نے شمالی وزیرستان میں ہونے والے آپریشن کے بعد القاعدہ ارکان کو ممکنہ طور پر ڈیورنڈ لائن عبور کرنے سے روکنے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں دستے سرحد پر تعینات کر دیا ہے۔

افغانستان کے پکتیکہ صوبے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ان القاعدہ یا طالبان جنگجوؤں کو پناہ دے گا اس کی شہریت واپس لے لی جائے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد