BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 October, 2003, 22:47 GMT 02:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: زبر دست بم دھماکہ

کوئٹہ
بم ریلوے پُل کے نیچے نسب کیا گیا تھا

کوئٹہ میں ریلوے کے پل کے پاس ایک زبردست دھماکہ ہوا ہے جس سے پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے لیکن کوئٹہ کے لیے ریل گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عبدالعلی ترین نے بتایا ہے کہ یہ تخریب کاری تھی جس کا مقصد پل کو اور کسی ریل گاڑی کو نقصان پہنچانا تھا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک طاقتور بم کوئٹہ شہر کی اہم سڑک منیر مینگل روڈ پر ریلوے کے پل کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔ یہ بم بدھ کی رات کوئی ساڑھے گیارہ بجے زبردست دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس دھماکے سے پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ایس ایس پی کے مطابق پٹڑی کے تین گارڈر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں جبکہ پٹڑی کی پلیٹ محفوظ رہی ہیں۔ ریلوے پولیس کے اہلکار نے بتایا ہے کہ اس وقت کسی بھی ریل گاڑی نے نہیں آنا تھا تاہم صبح سات بجے چلتن ایکسپریس اس پٹڑی پر سے گزرتی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت ریلوے پولیس کے ایک انسپکٹر کوئٹہ میں موجود ہیں جبکہ ایس پی اور ڈی ایس پی کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ تاحال اعلیٰ حکام نے نئے ایس پی کی تعیناتی نہیں کی ہے اور اگر کی ہے تو انہوں نے حاضری نہیں دی۔ ریلوے کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سکھر میں بیٹھ کر کوئٹہ کا کام کرتے ہیں۔

ادھر تُربت میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے فوکر طیارے کے انجن کو آگ لگ گئی لیکن طیارے میں سوار مسافر اور عملہ محفوظ رہا۔ جہاز کو ہنگامی بنیادوں پر رن وے پر اتارا گیا ۔

کراچی سے تربت آنے والی پی آئی اے کی پرواز نمبر پی کے پانچ سو پچپن جب تربت کے ہوائی اڈے پر اترنے لگی تو اس کے انجن نمبر دو کو اچانک آگ لگ گئئ۔ تربت سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق طیارہ تین بجکر نو منٹ پر رن وے پر اترا اور تین بجکر گیارہ منٹ پر اس کے انجن کو آگ لگ گئی۔

طیارے پر کوئی چھیالیس مسافر اور عملے کے ارکان موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ مسافروں نے ہنگامی صورتحال کی وجہ سے طیارے سے چھلانگ لگا دی تھی۔

ایئر پورٹ پر موجود عملہ نے آگ بجھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ طیارے میں سوار مسافر اور عملہ محفوظ رہا۔ اس حادثے کے بعد تربت سے پنجگور جانے والے مسافروں کو دوسرے طیارے کے ذریعے بھیجا گیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں بیشتر فوکر طیارے اپنی مدت پرواز مکمل کر چکے ہیں لیکن اعلی حکام نئے طیارے خریدنے کی بجائے انہی پرانے طیاروں سے کام چلارہے ہیں۔

ان طیاروں کی مدت پرواز مکمل ہونے کے با عث اکثر مقامات کے لئے پی آئی اے کی پروازیں معطل ہیں جن میں کوئٹہ سے ژوب، ڈیرہ اسمعیل خان اور پشاور کی پروازیں بھی شامل ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد