| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازعہ فصیل میں توسیع منظور
اسرائیلی کابینہ نے غربِ اردن کی متنازعہ فصیل کو مزید بڑھانے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس سے اسرائیل فلسطینی اور اسرائیلی علاقوں کی احاطہ بندی کرنا چاہتا ہے۔ کابینہ کے جس اجلاس میں اس فصیل کو مزید بڑھانے کی منظوری دی گئی اسی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اس فصیل میں کہیں کہیں پر در بھی بنائے جائیں گے تاکہ امریکہ کی اس تشویش کا ازالہ ممکن ہوسکے جس کے تحت امریکہ کا کہنا ہے کہ اس فصیل کی وجہ سے فلسطینیوں میں بےچینی اور غم و غصہ پھیل رہا ہے اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اسرائیل زمین پر قبضہ کررہا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس سے قیام امن کا عمل متاثر ہورہا ہے۔ کابینہ کے اجلاسں میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ آیا علاقے میں یہودی بستیوں کی بھی احاطہ بندی کی جا ئے یا نہیں۔ اس معاملے پر اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے حامی امریکہ کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس احاطہ بندی سے فلسطینی چند ایسے علاقوں سے محروم ہو جائیں گے جو فلسطین کے زیرِ انتظام ہیں اور اس طرح دسیوں ہزار فلسطینی شہری غربِ اردن سے کٹ کر رہ جائیں گے۔ اسرائیلی کابینہ کا یہ اجلاس اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ کے ایک ہی روز بعد ہو رہا ہے جس میں اس نے اسرائیل کے فصیل لگانے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ دریں اثناء اسرائیلی فوج نے بدھ کی صبح غربِ اردن سے فلسطینی شدت پسند تنظیم اسلامک جہاد کے ایک اعلیٰ رہنما بسام سعدی کو گرفتار کرلیا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے بسام سعدی کو جنین کے پناہ گزین کیمپ پر حملے کے بعد سے قید کر رکھا تھا۔ اسرائیلی افواج نے اس حملے میں ہیلی کاپٹر اور ٹینک استعمال کئے۔ تاہم انہیں فلسطینیوں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||