| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق: اقوام متحدہ کے عملے میں کمی
بغداد میں اپنے صدر دفتر پر حالیہ حملوں کے بعد اقوام متحدہ نے عراق میں عملے میں کمی کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے اس تازہ ترین فیصلے کے بعد بغداد میں ادارے کے غیر ملکی عملے کی تعداد پچاس سے بھی کم ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے تیس غیر ملکی ملازمین اختتام ہفتہ بغداد سے روانہ ہوئے لیکن ادارے کے ایک ترجمان کے مطابق کئی ملازمین ابھی عراق پہنچ رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق عراق میں اقوام متحدہ کا امدادی کام جاری رہے گا کیونکہ ادارے کے چار ہزار عراقی ملازمین مختلف منصوبوں پر کام کرتے رہیں گے۔ بغداد میں اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ کیون کینیڈی کا کہنا ہے کہ عملے میں حالیہ کمی کے باوجود ان کے امدادی کام جاری رکھنے کے کئے کافی لوگ موجود ہیں۔ بغداد میں عراق کے صدر دفتر پر ہونے والے کار بم حملے سے پہلے عراق میں اقوام متحدہ کے عملے کی تعداد چھ سو سے زائد تھی لیکن حملے کے بعد اس میں کمی کر دی گئی ہے۔ عراق میں تیل کے بدلے خوراک پروگرام کے سربراہ بینن سیوان کا کہنا ہے کہ پروگرام کے سلسلے میں کئے جانے والے کام اور اثاثوں کو عراقی عبوری انتظامیہ کے سپرد کئے جانے کی تیاریوں کو امن و امان کی خراب صورت حال اور عملے میں کمی کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔ لیکن انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ اکیس نومبر تک تیل کے بدلے خوراک کے پروگرام کو بند کر دے گا۔ اس پروگرام کے تحت عراق سے پینسٹھ ارب ڈالر کا تیل برآمد کیا گیا اور اس کے بدلے سینتالیس ارب ڈالر کا امدادی سامان عراقی عوام میں تقسیم کیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||