| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مراکش: لڑکیوں پر مقدمہ
مراکش کے شہر رباط میں تین نو عمر لڑکیوں کو جنہیں اس ماہ کے شروع میں ایک سپر مارکیٹ پر خودکش حملہ کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا جمعہ کو عدالت کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ ایمان الغریسی اور ثنا الغریسی بہنیں ہیں اور ان کی ساتھی حکیمہ ریجانی سب کی عمریں چودہ چودہ سال ہیں۔ یہ لڑکیاں اب تک پکڑے جانے والے خودکش حملہ آوروں میں سب سے کم عمر ہیں۔ اس سال مئی میں کاسابلانکا میں ایک بم دھماکے میں پینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اتنی کم عمر لڑکیوں کا خودکش حملہ کرنے پر تیار ہوجانا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے مراکش کو درپیش انتہا پسندی کا مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ ان لڑکیوں کے بارے میں جو اطلاعات منظر عام پر آئی ہیں ان سے مراکش کے لوگوں میں خوف اور رحم کےملے جلے جذبات پیدا کئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ لڑکیاں رباط میں واقع ایک ایسی سپر مارکیٹ پر حملہ کرنے والی تھیں جس میں شراب فروخت کی جاتی ہے۔ ان لڑکیوں کے منصوبے کا اس وقت پتا چلا جب انہوں نے مسجد کے ایک امام سے خودکش حملے کو جائز قرار دینے کے لیے فتویٰ حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق ان لڑکیوں کا تعلق ایک ٹوٹے ہوئے خاندان سے تھا اور وہ انتہائی غربت کی حالت میں زندگی گزار رہیں تھیں۔ ان لڑکیوں کو جسم فروشی کرنے پر بھی مجبور کیا جاتا رہا ۔ پولیس کے مطابق اس بدترین صورت حال سے نکلنے کی کوشش میں یہ لڑکیاں اسلامی انتہا پسندوں کے زیرِ اثر آ گئیں۔ کاسابلانکا میں دھماکے کے بعد سے ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سےاکثریت خودکش حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بعض مقدمات پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ دریں اثنا جمعہ کو ایک عدالت نے دو افراد کو دہشت گردی کے ارتکاب پر موت کی سزا سنائی ہے۔ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک سرکاری اہلکار کو ہلاک کیا، ایک سرکاری اسٹور سے اسلحہ چرایا اور خودکش حملہ کرنے کی تیاری کی۔ اس کے علاوہ گیارہ دوسرے مجرموں کو مختلف نوعیت کی سزائیں سنائی گئیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||