| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف: کینیڈا میں مایوسی
جنرل پرویز مشرف جب صدر بش کی آشیرباد لیکر خوشی خوشی آٹوا آئے تو انہیں یوں محسوس ہوا کہ جیسے وہ پاکستان اور کینیڈا کے مابین ایک نئے دور کا آغاز کررہے ہیں۔ لیکن یہاں کے مشہور اخبار دی گلوب اینڈ میل نے انکی خوشیوں اور امیدوں پر یہ لکھ کر پانی پھیرنے کی کوشش کی کہ کیا کینیڈا کو ایک ایسے شخص کا استقبال کرنا چاہیے جس نے طالبان سے ہمدردی رکھنے والوں کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی۔ گلوب اینڈ میل اپنی منفرد خبروں اور سیاسی تجزیوں کی وجہ سے کینیڈا میں بہت مقبول ہے۔ صدر مشرف کی آمد کے موقع پر اس اخبار نے ان خبروں کا بھی حوالہ دیا جن میں بتایا گیا تھا کہ کچھ پاکستانی فوجی افسروں کو محض اس بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا کہ وہ طالبان سے ہمدردی رکھتے تھے۔ ان خبروں کی تصدیق، تردید اور وضاحتوں سے قطع نظر اخبار نے یہ بھی طنز کیا کہ خود کینیڈا میں مجموعی طور پر اکیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے بیس پاکستانی ہیں۔ پولیس کے مطابق ان تمام افراد پر شبہ ہے کہ انکا تعلق دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے ہے۔ شاید جنرل مشرف سوچتے ہونگے کہ اگر محترم بش انہیں شاباشی دیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ پڑوسی ملک کینیڈا میں انکا ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق سے بڑا استقبال نہ ہو۔ سن انیس سو چھہتر میں جن ذوالفقار علی بھٹو کینیڈا آئے تھے تو یہاں انکا والہانہ استقبال کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت کے وزیر اعظم پیئرٹروڈو انہیں ذاتی طور پر جانتے تھے۔ اور جب چند برس بعد جنرل ضیاء الحق یہاں آئے تو فوجی حکمران ہونے کے باوجود انہیں بھی بہت عزت بخشی گئی۔ وجہ یہ تھی کہ صدر ضیاء نے امریکہ اور سویت یونین کی سرد جنگ کو جہاد کا رنگ دیا تھا۔ لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے۔ اس بدلی ہوئی صورت حال میں پاکستان نے بھی اپنے آپ کو بدل ہے۔ غالباً صدر مشرف کینیڈا پہنچ کر یہ بھی باور کرانا چہتے تھے کہ یہاں کے سابق وزیر خارجہ لائیڈ آکسوردی نے پاکستان کو دولت مشترکہ سے نکلوانے میں جو اہم کردار ادا کیا تھا وہ ماضی کی بات ہے جسے اب بھول جانا چاہیے اور بدلی ہوئی صورت حال کے پیش نظر پاکستان اور کینیڈا کے دوطرفہ تعلقات میں پھر سے گرم جوشی پیدا ہونی چاہیے۔ اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن پاکستان کے سرکاری میڈیا کا وعدہ ہے کہ اسلام آباد اور آٹوا کے درمیان تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ صدر مشرف نے اپنے تین روزہ دورہ کینیڈا میں تمام غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اور سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف دنیا میں سب سے زیادہ لڑائی لڑی ہے۔ اپنے یہاں دیئے گئے انٹرویو میں اور کینیڈا کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں صدر مشرف نے کشمیر اور فلسطین کے مسائل کے حل، عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے کے فیصلے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے موضوعات پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن اس موضوع پر بات چیت کرنے میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایسے فیصلے کرنا چاہتی ہے جو ملک اور قوم کے نقصان میں ہوں۔ جہاں تک عراق میں فوج بھیجنے کا تعلق ہے، اقوام متحدہ اس پر ایک قرارداد پیش کرنے والی ہے، ہم اس قرارداد کا بغور مطالعہ کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||