| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
تیل پیدا کرنے والے ممالک کی بین الاقوامی تنظیم اوپیک کے تیل کی پیدوار میں کمی کرنے کے غیر متوقع فیصلے سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ایشیا بھر میں حصص کی قیمتوں میں کمی کا رحجان دیکھنے میں آیا ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر حصص بازاروں میں سرمایہ کاری روک دی ہے اور حصص کی قیمتیں گرنا شروع ہو گئی ہیں۔ ویانا میں بدھ کو ہونے والے اوپیک کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تیل کی مجموعی پیداوار میں یکم نومبر سے نوے ہزار بیرل یومیہ کمی کر دی جائے۔ اس فیصلے کے بعد جمعرات کو ایشیا کی زیارہ تر اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رحجان دیکھنے میں آیا اور ہانگ کانگ کے بازار کے علاوہ تمام بازاروں میں حصص کی قیمتوں میں دو فیصد کی کمی ہوئی ۔تاہم بازار بند ہونے تک کچھ جگہ قیمتوں میں معمولی بحالی بھی ہوئی۔ ایشیا میں اس کساد بازاری کا اثر امریکہ پر بھی پڑا اور نیویارک اسٹاک ایکسچینج، ناسڈک میں تین فیصد کی، ڈاؤ جونز کے صنعتی انڈکس میں ڈیڑھ فیصد اور ایس اینڈ پی انڈکس میں دو فیصد کی کمی ہوئی۔ فضائی کمپنیوں کے حصص خاص طور پر متاثر ہوئے کیونکہ فضائی کمپنیوں کے اخراجات کا کم از کم بیس فیصد ایندھن کی قیمت پر خرچ ہوتا ہے۔ سنگاپور، جاپان اور کوریا کی فضائی کمپنیوں کے حصص برئی طرح متاثر ہو ئے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں واضح اضافہ ہوا اور برنٹ خام تیل جو کہ ایک عشاریہ ایک تین ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا تھا اب چھبیس عشارہ چھ پانچ ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔ اوپیک کے ارکان جن کا دنیا کی مجموعی تیل کی پیدوار میں ایک تہائی حصہ ہے تیل کی فراہمی میں کمی کر کے تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کو پچس ڈالر فی بیرل پر رکھنا چاہتے ہیں۔ ایران کے تیل کے وزیر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال کے مطابق اگلے سال کے اوائل میں پچس لاکھ بیرل اضافی تیل عالمی منڈی میں مہیا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے قیمتوں پر منفی اثر پڑنے کا اندیشہ تھا لہذا انہوں نے پیدوار میں کمی کر کے اس صورت حال سے بچنے کا راستہ نکالا ہے۔ دریں اثنا عراق کی اوپیک میں رکنیت کے بارے میں بھی ایک تنازع شروع ہو گیا ہے۔ تیل کے وزیروں میں ابتدا میں اس بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا تھا کہ کیا عراق کے نمائندے کو جسے امریکی انتظامیہ نے نامزد کیا ہے اوپیک کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ تاہم اوپیک کے صدر نے اجلاس میں کہا کہ عراق کی رکنیت بحال رہے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||