| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری پروگرام ترک نہیں کریں گے: ایران
ایران کے وزیرِ خارجہ کمال خرازی نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار تیار کرنے کی ٹیکنالوجی نہیں ہے اور ساتھ ہی انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایران اس سلسلے میں اپنا پرامن پروگرام ترک نہیں کرے گا۔ نیویارک میں جہاں کمال خرازی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کی نمائندگی کر رہے ہیں، ایک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران کے پاس یورینیم کو افزودہ کرنے کے وسائل دستیاب ہیں لیکن ان کا مقصد پر امن ہے اور بجلی پیدا کرنا ہے نہ کہ ہتھیار تیار کرنا۔ نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار گریگ بیرو کا کہنا ہے کہ ایران پر کافی زیادہ بین الاقوامی دباؤ ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہیں اور اس سے ہتھیار بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اور نیویارک میں ایک تجارتی تقریب سے خطاب کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایرانی اپنے جوہری پروگرام سے بجلی پیدا کرنی چاہتا ہے ۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران اپنے جوہری سرگرمیوں کو ترک کردے گا تو کمال خرازی کا جواب تھا: ’نہیں‘۔ان کے ان الفاظ پر ویانا میںایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنیسی میں بہت غور کیا جائے گا۔ یہ ادارہ ایران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں زیادہ شفاف رویہ اختیار کرے ۔ اس ادارے نے ایران کو اکتوبر کے آخر تک کی مہلت دے رکھی ہے جس میں ایران کو یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیوں کا مقصد صرف اور صرف پر امن ہے نہ کہ ہتھیاروں کی تیاری۔ کمال خرازی نے کہا کہ ایران ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں شرح پیدائش بہت زیادہ ہے اور اس کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ توانائی کے وسائل کو متنوع بنائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |