| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں ملے‘
امریکہ میں بش انتظامیہ کےایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہےکہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تفتیش کرنے والی امریکی ٹیم کو ابھی تک ان ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ عراق سروے گروپ کی جانب سے سی آئی اے کے لۓ تفتیش کرنے والی یہ ٹیم اپنی عبوری رپورٹ میں بتائے گی کہ انسپکٹروں کو نہ تو ہتھیار ملے ہیں نہ ہی ان ہتھیاروں کو نشانے پر پہنچانے کا نظام ملا ہے۔ اس کے علاوہ گروپ کو کوئی ایسی لیباریٹری بھی نہیں ملی ہے جس میں ان کو تیار کیا جاسکتا۔ اس ذریعہ نے بتایا ہے کہ اس بات کی شہادت ہے کہ صدام حکومت نے ہتھیاروں کا پروگرام تیار کرنے کی کوشش کی تھی۔ سی آئی اے کا کہنا ہے کہ اسے اب بھی عراق سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں لہٰذہ اس رپورٹ کو صرف اب تک کی صورت حال سمجھنا چاہۓ۔ حکومت برطانیہ نے، جو وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں بہت دباؤ میں ہے، کہا ہے کہ رپورٹ کے انکشاف کو قیاس آرائی سے زیادہ کچھ نہیں سمجھنا چاہۓ۔
اگلے ماہ شائع ہونے والی اس عبوری رپورٹ میں یہ بھی کہا جائے گا کہ یہ انتہائی غیر ممکن ہے کہ امریکی یلغار سے قبل وسیع تباہی کے ہتھیار عراق سے شام منتقل کر دیے گئے تھے۔ بی بی سی ٹیلی وژن کے ایک پیشکار اینڈریو نیل نے امریکی انتظامیہ کے ذریعہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ رپورٹ میں کہا جائے گا کہ تلاش کے باوجود بھی انسپکٹروں کو راق میں جراثیمی، کیماوی، یا جوہری ہتھیاروں کی ذرہ برابر مقدار بھی نہیں ملی۔ تاہم اس رپورٹ میں وہ کمپیوٹر پروگرام، فائلیں، تصویریں اور دیگر دستاویزات شائع کی جائیں گی جن سے پتا چلے گا کہ صدام حسین وسیع تباہی کے ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سی آئی اے کے ترجمان بِل ہارلو نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا ہے کہ ان کے خیال میں اس رپورٹ میں ٹھوس نتائج پر بات نہیں ہوگی۔ ان کے بقول یہ رپورٹ نہ کسی چیز کی تصدیق کرے گی اور نہ کسی چیز سے انکار کرے گی۔ برطانوی وزیر ِ خارجہ جیک سٹرا کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ بین الاقوامی برادری اس بات پر متفق تھی کہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیار ایک بہت بڑا خطرہ ہیں اور انہیں ثبوت کے لئے کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |