BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 September, 2003, 01:05 GMT 05:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں ملے‘
وسیع تباہی کے ہتھیار
برطانوی حکومت ’قیاس آرائیوں‘ پر تبصرے کے لئے تیار نہیں ہے

امریکہ میں بش انتظامیہ کےایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہےکہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تفتیش کرنے والی امریکی ٹیم کو ابھی تک ان ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

عراق سروے گروپ کی جانب سے سی آئی اے کے لۓ تفتیش کرنے والی یہ ٹیم اپنی عبوری رپورٹ میں بتائے گی کہ انسپکٹروں کو نہ تو ہتھیار ملے ہیں نہ ہی ان ہتھیاروں کو نشانے پر پہنچانے کا نظام ملا ہے۔

اس کے علاوہ گروپ کو کوئی ایسی لیباریٹری بھی نہیں ملی ہے جس میں ان کو تیار کیا جاسکتا۔ اس ذریعہ نے بتایا ہے کہ اس بات کی شہادت ہے کہ صدام حکومت نے ہتھیاروں کا پروگرام تیار کرنے کی کوشش کی تھی۔

سی آئی اے کا کہنا ہے کہ اسے اب بھی عراق سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں لہٰذہ اس رپورٹ کو صرف اب تک کی صورت حال سمجھنا چاہۓ۔

حکومت برطانیہ نے، جو وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں بہت دباؤ میں ہے، کہا ہے کہ رپورٹ کے انکشاف کو قیاس آرائی سے زیادہ کچھ نہیں سمجھنا چاہۓ۔

اینڈریو نیل
اینڈریو نیل کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو آخری شکل دی جا رہی ہے اور اس میں تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں

اگلے ماہ شائع ہونے والی اس عبوری رپورٹ میں یہ بھی کہا جائے گا کہ یہ انتہائی غیر ممکن ہے کہ امریکی یلغار سے قبل وسیع تباہی کے ہتھیار عراق سے شام منتقل کر دیے گئے تھے۔

بی بی سی ٹیلی وژن کے ایک پیشکار اینڈریو نیل نے امریکی انتظامیہ کے ذریعہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ رپورٹ میں کہا جائے گا کہ تلاش کے باوجود بھی انسپکٹروں کو راق میں جراثیمی، کیماوی، یا جوہری ہتھیاروں کی ذرہ برابر مقدار بھی نہیں ملی۔

تاہم اس رپورٹ میں وہ کمپیوٹر پروگرام، فائلیں، تصویریں اور دیگر دستاویزات شائع کی جائیں گی جن سے پتا چلے گا کہ صدام حسین وسیع تباہی کے ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

سی آئی اے کے ترجمان بِل ہارلو نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا ہے کہ ان کے خیال میں اس رپورٹ میں ٹھوس نتائج پر بات نہیں ہوگی۔ ان کے بقول یہ رپورٹ نہ کسی چیز کی تصدیق کرے گی اور نہ کسی چیز سے انکار کرے گی۔

برطانوی وزیر ِ خارجہ جیک سٹرا کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ بین الاقوامی برادری اس بات پر متفق تھی کہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیار ایک بہت بڑا خطرہ ہیں اور انہیں ثبوت کے لئے کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد