BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 September, 2003, 16:39 GMT 20:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ میں اسلامیات: پاکستانی جوڑے کا عطیہ
امریکہ کی سٹینفرڈ یونیورسٹی
’ہم چاہتے ہیں کہ شمالی امریکہ میں اسلامیات کا بڑا مرکز قائم کیا جائے‘

امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی جوڑے نے امریکہ کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں شعبـۂ اسلامیات کے قیام کے لئے پچیس لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا ہے۔

عطیہ وصول کرنے اور اسے اسلامیات میں پروفیسر شپ اور دیگر کورسز پر صرف کرنے کا اعلان یونیورسٹی نے جمعہ کے روز کیا۔

گیارہ ستمبر کے حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے باعث لوگوں میں اسلامیات کی تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ دو سال کے دوران امریکہ میں طلباء کے اس مطالبے میں اضافہ ہوا ہے کہ انہیں اسلامی مذہب، ثقافت اور تاریخ کے بارے میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں اور بیشتر تعلیمی ادارے بشمول سٹینفرڈ یونیورسٹی، یہ مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

سٹینفرڈ یونیورسٹی کو اس مقصد سے مختلف ذرائع نے نوے لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا ہے جس میں پاکستانی جوڑے کا یہ عطیہ بھی شامل ہے۔

کمپیوٹر کے شعبہ کے ماہر صہیب عباسی اور ان کی اہلیہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے لیکن اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے امریکہ میں جابسے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عطیہ کا مقصد طلباء کو اسلامیات کی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

یونیورسٹی کی ایک پریس ریلیز کے مطابق صہیب عباسی نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ چاہتے ہیں کہ یہ یونیورسٹی شمالی امریکہ میں اسلامیات کے شعبے کا بڑا مرکز بن جائے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں مسلم۔عیسائی مرکز کے بانی اور ڈائریکٹر جان ایسپو سٹو کا کہنا ہے کہ یہ رقم اس مرکز کے قیام کے لئے بے انتہا مددگار ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا ’امریکہ میں اس شعبے میں ایک درجن سے بھی کم پروفیسر شپ ہیں‘۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے مسلمانوں کی بہ نسبت دیگر مذاہب کے لوگ زیادہ امداد دیتے ہیں۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ مسلمان بستے ہیں جن میں سے ستر لاکھ امریکہ میں مقیم ہیں۔

سٹینفرڈ یونیورسٹی میں مذہبی امور کے پروفیسر رابرٹ گریگ نے جوکہ نئے اسلامی پراگرام کے ڈائریکٹر بھی ہوں گے کہا ہے کہ عباسی اور ان کی اہلیہ کے عطیات کے ساتھ دیگر عطیات سے یونیورسٹی میں عربی اور دیگر زبانوں کے شعبے قائم کئے جائیں گے۔

صہیب عباسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے ایک سال قبل یہ رقم عطیہ کرنے پر غور کرنا شروع کیا تھا۔

اس سے قبل بھی یہ جوڑا تعلیم کے مختلف شعبوں کے لئے عطیات دیتا رہا ہے لیکن اب تک دیے جانے والے عطیات میں یہ سب سے خطیر رقم ہے۔

سارہ عباسی تعلیم کے فروغ کے ایک فلاحی بین الاقوامی ادارے سے وابستہ ہیں جس نے سن انیس سو ستانوے سے لے کر اب تک پاکستان میں دو سو اسکول قائم کئے ہیں۔

جبکہ صہیب عباسی کمپیوٹر کے ادارے اوریکل میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہنے کے بعد اب ریٹائر ہوچکے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد