| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق پر حملہ درست: بُش
امریکہ کے صدر جارج بُش نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب سے پہلے عراق کے بارے میں اپنی پالیسی کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ امریکی ٹیلی ویژن چینل فاکس ٹی وی نیٹ ورک سے پیر کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں صدر بُش نے کہا کہ ’عراق پر حملہ درست فیصلہ تھا‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ عراق میں اقوام متحدہ کے لئے کوئی بڑا کردار نہیں دیکھتے، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ عالمی ادارہ عراق کے نئے آئین کی تیاری اور انتخابات کی نگرانی میں مدد دے سکتا ہے۔ فرانس سمیت کئی ممالک عراق میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار اور جلد از جلد عراقی عوام کو اقتدار منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ شاید عراق میں امریکہ کو اقوام متحدہ کو زیادہ اختیار دینے کی ضرورت نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ابتدائی طور ایسا نہ کرنا پڑے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سے عراق کے آئین کی تیاری میں مدد لی جا سکتی ہے کیونکہ اس کام میں وہ لوگ اچھے ہیں۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سے انتخابات کے دوران نگرانی بھی کروائی جا سکتی ہے جسے اس کا ’اہم کردار سمجھا جائے گا‘۔ صدر بُش نے کہا کہ وہ جنرل اسمبلی کو بتائئں گے کے انہیں عراق پر حملے کے بارے میں ندامت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں واضح کروں گا کہ میں نہ درست فیصلہ کیا تھا اور دنیا صدام حسین کے بغیر بہتر جگہ ہے‘۔ صدر بُش ایک ایسے وقت اقوام متحدہ سے خطاب کرنے والے ہیں جب امریکہ میں عراق میں امریکی فوجیوں پر ہونے والے حملوں کے وجہ سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ وہاں گوریلا لڑائی میں الجھ گیا ہے۔ واشنگٹن سلامتی کونسل سے عراق میں کثیرالملکی فوج کی تعیناتی کی منظوری اور اس وہاں اس کی قائم کردہ گورننگ کونسل کی تائید چاہ رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |