BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 September, 2003, 18:50 GMT 22:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسلام دہشتگردی نہیں‘
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف
’دہشتگردی اور اسلام کے درمیان تعلق جوڑنا مصنوعی اور خطرناک ہے‘

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے دنیا کے رہنماؤں کو متنبہ کیا ہے کہ اسلام اور دہشتگردی کو ایک دوسرے کا مترادف قرار نہ دیا جائے ۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیر اور فلسطین میں مسلح مزاحمت کی تحریک کو قانونی تسلیم کیا جائے۔

نیو یارک میں’انسانیت کے لئے دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے موضوع پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے بعد سے دہشتگردی کو القائدہ اور پھر اسلام کے ہم معنی تصور کیا جانے لگا ہے۔

’دہشتگردی اور اسلام کے درمیان تعلق جوڑنا مصنوعی اور خطرناک ہے اور اب مسلمانوں میں یہ خیال زور پکڑتا جا رہا ہے کے اسلام کو بطور مذہب نشانہ بنایا جا رہا ہے‘۔

جنرل مشرف نے کہا کہ اب القائدہ کے بجائے دہشتگردی پھلنے پھولنے کی وجوہات ختم کرنے پر زور دینا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مسلمان برادری کے مطالبات کو اکثر ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

صدر نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی کی خطرناک ترین شکل ریاستی دہشتگردی ہے جس میں ان لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو بیرونی قبابض طاقتوں سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

پرویز مشرف نے کہا ’وہ ریاستیں جو اس میں ملوث ہیں وہ حقِ خود ارادیت کی تحریک چلانے والوں کو دہشتگرد کہتی ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی پالیسی‘۔

انہوں نے مزید کہا ’بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے بعد کشمیریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کریں‘۔

صدر مشرف نے کہا کہ آزادی کی اس جدوجہد کو دہشتگردی کا نام دینا مضحکہ خیز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ پاکستان ان افراد کو اسلحہ، تربیت اور فنڈز فراہم کرتا ہے لیکن پاکستان ان افراد کی محض اخلاقی اور سفارتی مدد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہے۔

جنرل مشرف نے کہا ’ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ اب بھارت کی باری ہے کہ وہ مثبت ردِ عمل ظاہر کرے‘۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے اٹھارہ سربراہانِ مملکت یا حکومتی نمائندوں میں بھارت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد