BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 September, 2003, 06:21 GMT 10:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکے کے بعد عملہ کم کرنے پر غور
عراق
عراق میں سات اگست کو اردن کے سفارتخانے کے باہر بھی بم دھماکہ ہوا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ عراق میں اقوام متحدہ کے سابقہ دفتر کی عمارت کے قریب ایک گاڑی میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد ادارہ عراق میں اپنی موجودگی کے حوالے سے حالات کا دوبارہ سے جائزہ لے رہا ہے۔

اس دھماکے میں دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق دھماکے میں حملہ آور اور ایک سیکورٹی گارڈ ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ عمارت کے باہر سڑک کے دوسری جانب کھڑی ایک گاڑی میں ہوا تھا۔

کوفی عنان نےاقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں ایک اجلاس میں شرکت سے قبل کہا کہ ادارے کے عراق میں کام کرنے کے لئے محفوظ حالات ضروری ہیں۔

جاء وقوعہ پر موجود اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ اقوامِ متحدہ عراق میں اپنے کارکنوں اور دیگر اہلکاروں کو واپس بلانے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے پر غور کرے گا۔

گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی اس عمارت میں ایک تباہ کن بم دھماکے میں عراق میں اقوام متحدہ کے سربراہ سرجیو ڈمیلو سمیت بائیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ گزشتہ حملے کے بعد سے یہ عمارت خالی تھی۔

یہ دھماکے امریکی فوج پر اس حملے کے محض ایک ہی روز بعد ہوا ہے جس میں تین امریکی فوجی مارے گئے تھے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق شہر بھر میں سیکورٹی کے وسیع انتظامات کے باوجود ایسے حملوں کو روکنا تقریباً نا ممکن نظر آتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد