| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کاش اقوام متحدہ میں دم ہوتا‘
’اقوامِ متحدہ ایک ناقص ادارہ ہے جہاں دنیا بھر کے سفارتکار سوٹ بوٹ پہن کر آتے ہیں، لمبی لمبی تقاریر کرتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں اور لوٹ جاتے ہیں۔‘ آپ نے اقوامِ عالم کے اہم ترین ادارے سے مایوس افراد کو اکثر اسی قسم کی باتیں کرتے سنا ہوگا۔ بعض اوقات تو ایسے لوگ کہتے ہیں ’ کاش! اقوام متحدہ میں اتنا دم ہوتا کہ وہ دنیا بھر میں امریکہ کی یکطرفہ فوجی کارروائیاں روک سکتی۔ کشمیر اور فلسطین میں گزشتہ کئی کئی دہائیوں سے حقِ خوداردیت کے لئے خون بہاتے لوگوں کو، اپنی قراردادوں کے تحت ہی ان کا حق دلوا سکتی۔‘ اور نہیں تو کم از کم ’ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم کہنے کی جرات تو رکھتی۔‘ رفیع الدین احمد گزشتہ تیس برس سے اقوام متحدہ سے متعلق سفارت کاری سے منسلک رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ متحدہ پر تنقید کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ کوئی ’عالمی حکومت‘ نہیں دنیا بھر کے مختلف ممالک کا ادارہ ہے۔ ٹھیک ہے اس ادارے میں خامیاں ہیں۔ لیکن اس کے رکن ممالک میں بھی تو خامیاں اور اچھائیاں ہیں۔‘ رفیع الدین احمد سے میری ملاقات ماہِ جون میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفاتر ہی میں ہوئی۔ یہ انتالیس منزلہ عمارت، شیشے اور سنگِ مرمر کا ایک خوبصورت تعمیراتی امتزاج ہے جو نیویارک کے علاقے مین ہٹن کے دریائے ہڈسن کے مشرقی کنارے پر واقع ہے جسے ’ایسٹ ریور‘ بھی کہا جاتا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ سولہ ایکڑ زمین جس پر اقوام متحدہ کے دفاتر قائم ہیں نیو یارک یا امریکہ کی نہیں، بلکہ ’عالمی حدود‘ کا حصہ ہے۔ ادارے کے قیام کے وقت یہ زمین نامور امریکی ارب پتی، جان ڈی راکرفیلرجونیئر کی طرف سے دی گئی عطیے کی رقم سے خریدی گئی۔ اقوام متحدہ کی کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر کے لئے پہلے پہل امریکہ نے ہی ’بِلاسود قرضہ‘ فراہم کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے دفاتر میں میری ملاقات تعلقاتِ عامہ کی اہلکار فینگ شائو سے بھی ہوئی۔ ان کا تعلق چین سے ہے۔ اقوام متحدہ کا دفاع کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’لوگوں کو اس ادارے سے بڑی توقعات ہیں۔ جب وہ توقعات پوری نہیں ہوتیں تو لوگ مایوس ہو جاتے ہیں اور اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہیں، اسے ایک ناکارہ ادارہ قرار دیتے ہیں۔ حقیقت پسندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم یہ مان لیں کہ تمام مسائل فوراً حل نہیں ہو پاتے، ان میں وقت لگتا ہے، مسلسل محنت درکار ہوتی ہے، یہ ادارہ اسی لئے بنایا گیا تھا۔‘ سفارتکار اقوام متحدہ کے دفاع میں ایک بڑی دلیل یہ دیتے ہیں کہ انیس سو پینتالیس میں وجود میں آنے کے بعد یہ ادارہ تیسری عالمی جنگ روکنے میں کامیاب رہا ہے۔ لیکن وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ اس عرصے کے دوران دنیا بھر میں کئی جنگوں اور جھڑپوں میں لاکھوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، چاہے کوریا ہو یا ویتنام، افریقہ کے خونی تنازعات ہوں یا یا پاک بھارت جنگیں۔ سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی موثر کارکردگی میں رکاوٹ آتی کہاں سے ہے؟ تجربہ کار سفارتکار اور پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم بلا جھجک کہتے ہیں ’ہمیشہ سے بڑی طاقتوں نے اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کو، کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ بڑی طاقتیں کہتی ہیں ہمیں ضابطوں میں نہ الجھائیں۔ہم اپنے قومی مفادات میں جو کرتے ہیں ہمیں کرنے دیں، اس میں رکاوٹ نہ کھڑی کریں۔‘ منیر اکرم کہتے ہیں ’بڑی طاقتوں کے اس موقف کے جواب میں غریب ممالک کو چاہیئے کہ اقوام متحدہ پر الزام تراشی کی بجائے اس عالمی ادارے کو مضبوط بنائیں اور اس کی حمایت کریں۔ ہماری اس ادارے میں اکثریت ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم طاقتور ممالک کے خلاف مل کر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔‘ امیر ممالک ہوں یا غریب، اکثریت کا خیال ہے کہ اس ادارے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ البتہ اس بات پر اتفاق نہیں کہ سلامتی کونسل کی ازسرِنو تشکیل اگر کی جائے تو کیسے؟ چند طاقتوں کو ویٹو کا حق ہونا چاہیئے یا نہیں؟ عالمی قوانین کی کھلی پامالی پر جزا اور سزا کا تعین کیسے کیا جائے؟ اقوام متحدہ میں بے جا نوکر شاہانہ انداز اور وسائل کا زیاں کیسے کم کیا جائے؟ وغیرہ وغیرہ۔ جب تک ان پیچیدہ اور متنازعہ معاملات کا تصفیہ ممکن ہو، ایک بات صاف ہے کہ ریاستوں کے عالمی نظام میں اقوام متحدہ اپنی تمام تر ناکامیوں کے باوجود کمزور اور غریب اقوام کے لئے ایک ناگزیر ادارہ ہے۔اس پر تنقید کرنا ہمارا حق ضرور ہے لیکن جب جب یہ ادارہ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی سے دوچار ہوتا ہے، وہ اجتماعی طور پر تمام اقوامِ عالم کی ناکامی ہوتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |