| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق:اصلاحات، اثاثوں کی فروخت
عراق میں امریکیوں کی مقرر کردہ عبوری کونسل نے کہا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو ماسوائے تیل کی صنعت کے ، عراقی اداروں کی سوفیصد ملکیت اور کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔ عبوری کونسل میں وزیرخزانہ کے اس اعلان کے مطابق بیرونی باشندوں اور سرمایہ کاروں کو ان اداروں کی ملکیت خریدنے کی اجازت ہوگی جو اب تک سرکاری ملکیت میں چل رہے تھے۔ان سرمایہ کاروں کو ان اداروں سے جس قدر بھی منافع وہ چاہیں بیرون ملک لے جانے کی اجازت ہوگی۔ عبوری وزیرخزانہ کمال الکیلانی کے مطابق نئی پالیسی عراق کی تعمیر نو میں ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔ دوسری جانب امریکی وزیرخزانہ جون اسنو نے کہا ہے کہ عراق میں اب بھی اہم ترین ترجیح سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں سرمایہ کاری کو خطرات درپیش ہوں گے وہاں سرمایہ کار نہیں جائیں گے۔ عراقی اداروں کو فروخت کے لیے پیش کرنے کا اعلان متحدہ عرب امارات میں جاری عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے اجلاس میں کیا گیا۔ عمل درآمد کی صورت میں یہ پالیسی عراقی معیشت میں بنیادی تبدیلیوں کا باعث بنے گی کیونکہ معزول صدر صدام حسین کی حکومت میں زیادہ تر اداروں کی ملکیت حکومت کے ہی پاس ہوتی تھی۔ اعلان کے مطابق مستقبل میں عراق کے مرکزی بینک کو آزادی حاصل ہوگی جبکہ کم ازکم چھ غیرملکی بینکوں کو تیزرفتاری کے ساتھ آئندہ پانچ برسوں میں عراقی بینکوں کی مکمل ملکیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کام کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔ اعلان میں عراق میں آمدن ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح پندرہ فیصد بھی مقرر کی گئی ہے جبکہ تمام درآمدات پر صرف پانچ فیصد درآمدی محصول عائد کیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |