| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویٹو کرنے کا صحیح طریقہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ ویٹو کی اصطلاح اقوام متحدہ کے چارٹر میں کہیں نہیں ملتی، پھر بھی انیس سو پینتالیس میں تنظیم کی تشکیل سے لے کر آج تک سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان نے مجموعی طور پر دو سو اکیاون مرتبہ ویٹو کا حق استعمال کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں صرف یہ درج ہے کہ سلامتی کونسل میں کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے کونسل کے پندرہ ارکان میں سے نو کا ووٹ حاصل ہونا ضروری ہے۔ لیکن پانچ مستقل ارکان یعنی روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس یا چین میں سے اگر کوئی ایک رکن بھی قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دے دے تو یہ قرارداد خود بخود ختم ہو جائے گی۔ البتہ ان مستقل ارکان میں سے اگر کوئی رکن رائے شماری میں حصہ نہ لے تو اسے مخالفت کا ووٹ تصور نہیں کیا جائے گا اور قرارداد کثرتِ رائے سے منظور سمجھی جائے گی۔
ویٹو کے اس اختیار کے استعمال پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم یہ ہو گا کہ اقوام متحدہ کی تشکیل سے لے کر انیس سو نوے میں اپنے خاتمے تک سابق سوویت یونین نے ایک سو اٹھارہ مرتبہ ویٹو کا حق استعمال کیا، یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔ لیکن سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ویٹو کا حق روس کو منتقل ہو گیا۔ روس نے گزشتہ تیرہ برس میں صرف دو مرتبہ یہ حق استعمال کیا ہے۔ ویٹو استعمال کرنے کی تعداد کے اعتبار سے دوسرا نمبر امریکہ کا ہے جس نے اب تک ستتر مرتبہ مختلف قراردادیں ویٹو کی ہیں ان میں سے چھتیس قراردادیں صرف اسرائیل سے متعلق ہیں۔ اسرائیل کے حق میں امریکی ویٹو کے استعمال کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے سلامتی کونسل میں جو آخری دس قراردادیں ویٹو کی ہیں ان میں سے سات اسرائیل کے بارے میں تھیں۔ کئی مرتبہ تو امریکہ نے اسرائیل کے سلسلے میں ایسی قراردادیں بھی ویٹو کیں کہ دنیا دنگ رہ گئی مثلاً گزشتہ برس دسمبر میں اسرائیل نے غرب اردن میں فوجی کارروائی کے دوران اقوام متحدہ کے کئی ملازموں کو ہلاک کر دیا اور عالمی ادارہِ حوراک کے گودام کو بھی تباہ کر دیا۔ لیکن امریکہ نے اس سلسلے میں اسرائیل کی مذمت کرنے والی قرارداد کا مسودہ بھی ویٹو کر دیا۔ امریکہ نے پہلا ویٹو مارچ انیس سو ستر میں استعمال کیا تھا۔ تب سے اب تک امریکہ نے جو ستتر ویٹو استعمال کیے ہیں، ان میں سے چون امریکہ نے تنِ تنہا استعمال کیے ہیں یعنی سلامتی کونسل کے کسی اور مستقل رکن نے بھی امریکہ کا ساتھ نہیں دیا حتیٰ کہ برطانیہ جیسے قریبی اتحادی نے بھی نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |