| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں بہت شرمیلی تھی
پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ ’میں ایک انتہائی شرمیلی دوشیزہ تھی جس نے ایک الگ تھلگ زندگی گزاری۔ وہ بی بی سی کے تحت ’وائسز آف مسلم وومن‘ (مسلم خواتین کی آواز) میں اظہار خیال کررہی تھیں۔ اپنے وزیراعظم والد ذوالفقار علی بھٹو کی تربیت و نگرانی میں محض نو برس کی عمر سے سیاسی تربیت حاصل کرنے کے باوجود ان کا کہنا ہے ’مجھے تو آکسفرڈ اور ہاورڈ یونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں میں پہنچ کر پتہ چلا کہ عوام کس قدر طاقتور ہے، اس سے قبل تو میں عوام کی اس طاقت کے بارے میں کچھ جانتی ہی نہیں تھی۔‘ ’میں نے ایسے لوگ دیکھے جو خود اپنے ہی صدر پر تنقید کررہے تھے، یہ آپ پاکستان میں نہیں کرسکتے، آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ میں نے ذرائع ابلاغ دیکھے جو اپنی ہی حکومت پر نکتہ چینی کررہے تھے۔‘ ’پہلے تو میں نے عزم کیا کہ وطن واپس لوٹ جاؤں تاکہ اپنے لوگوں کو یہ آزادی اور انتخاب کی یہ صلاحیت سکھاؤں۔۔۔ یہ انفرادی عزت و حرمت اور تکریم و احترام جو میں نے دیکھا کہ میرے کالج میں پڑھنے والے تمام طلبہ سمیت مغرب میں ہر شخص کو حاصل ہے۔‘ ’اس ابتدائی تعلیم نے مجھ پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کئے۔ میری باقی ساری زندگی ان ہی کے زیر اثر گزری۔‘ ’میرے والد ملک کے وزیراعظم تھے، میرے دادا بھی سیاست میں رہے۔ لیکن میرا اپنا رجحان اور جھکاؤ سیاست میں حصہ لینے سے کہیں زیادہ ملازمت کے حصول میں تھا۔ میں سفارتکار بننا چاہتی تھی یا پھر۔۔۔ شاید صحافی مگر سیاسیتداں ہرگز نہیں بننا چاہتی تھی۔‘ ’لیکن جب میرے والد پہلے اسیر ہوئے اور پھر قتل کردیئے گئے تو میرے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہ تھا کہ میں اپنے والد کی جدوجہد جاری رکھوں میرے والد کے سیاسی حامیوں کی اکثریت یہی چاہتی تھی کہ میں اس جدوجہد کو جاری رکھوں۔‘ ’انیس سو ستتر کے بعد جنرل ضیاء نے پہلی بار انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہی تب کیا جب میں حاملہ تھی اور یہی سوچ کر کیا تھا کہ ایک حاملہ خاتون کیسے انتخابی مہم چالا سکتی ہے مگر میں چلاسکتی تھی اور میں نے چلائی اور میں جیتی بھی اور اس مفروضے کو غلط ثابت کیا۔‘ ’میری زندگی کا سب سے زیادہ شاندار اور مسرت انگیز لمحہ وہ تھا جب میں نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ میں صدراتی محل میں قالین پر چلتی چلی جارہی تھی۔۔۔ اور۔۔۔ ایسا محسوس کررہی تھی جیسے وہ تمام شہداء جنہیں آزادی کی اس جنگ میں اپنی جان گنوانی پڑی میرے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔۔۔۔‘ ’میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ پاکستان نے دیگر مسلم ممالک کے لئے عورت کی سربراہی کی راہ کھول دی ہے۔‘ ’ایک مخصوص قسم کے لوگ تو محض اسی لئے میری مخالفت کرتے رہے کہ میں ایک عورت تھی۔‘ ’مساجد میں ملاّ چیختے رہے کہ پاکستان نے ایک عورت کو منتخب کرکے خود کو مسلم امّہ سے باہر نکال دیا ہے۔ یا یہ کہ ۔۔۔۔ اسلامی معاشرے میں مرد کے مقام پر عورت قابض ہوگئی ہے۔‘ ’میرے مخالفین نے مسائل پر بحث و مباحثے کے بجائے خود کو بدزبانی تک محدود کرلیا تھا۔ اس اٹل حقیقت نے کہ میں عورت ہوں انہیں ہذیانی کیفیت تک پہنچا دیا تھا۔ اور میرے لئے یہ سب کچھ آسان ہرگز نہیں تھا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اس سب سے نمٹوں کیسے؟‘ ’میرا مطلب ہے۔۔۔ کہ ۔۔۔ آپ سیاسی اختلافات سے تو نمٹنے کی کوشش کرسکتے ہیں مگر آپ کسی ایسے شخص سے کیا برتاؤ کریں گے جو یہ کہہ رہا ہو کہ وہ آپ کو محض اس لئے پسند نہیں کرتا کہ آپ عورت ہیں اور آپ نے ایک مرد کے مقام پر قبضہ کرلیا ہے۔ میری پرورش تو اس ماحول میں ہوئی تھی جہاں ایک عورت وہ سب کچھ کرسکتی تھی جو ایک مرد کرسکتا ہے۔‘ ’یہ ٹھیک ہے کہ بہت سے کام ایسے ہیں کہ جو صرف کوئی عورت ہی کرسکتی ہے مثلاً بچے کی نگہداشت و پرورش مگر یہ بات میرے لئے بڑی عجیب سی ہے کہ جب بھی میں حاملہ ہوئی میرے سیاسی مخالفین نے یہی سوچا کہ اب میں مفلوج ہوجاؤں گی اور وہ اسی موقع پر میرے خلاف کچھ بھی کرسکتے ہیں۔‘ ’اور میرے سیاسی مخالفین نے اس وقت تو میرا گلہ ہی گھونٹ دیا تھا جب میری سب سے چھوٹی بیٹی پیدا ہونے والی تھی۔ اف۔۔۔ وہ میرے لئے ایک انتہائی بھیانک تجربہ تھا۔‘ ’میں چاہتی ہوں کہ مجھے پاکستان اور مسلم امّہ میں جمہوریت کی علامت بن جانے کی بنا پر یاد رکھا جائے اور پاکستان میں جمہوریت کی صبح کا آغاز کرنے کے حوالے سے مجھے یاد رکھا جائے۔‘ ’لیکن شاید اس سے بھی زیادہ تو میں چاہتی ہوں کے مجھے ان خدمات کی بنا پر یاد کیا جائے جو میں نے عورتوں کے لئے انجام دیں۔ یقینی طور پر میری شناخت ایک عورت کی ہی حیثیت سے ہے اور میں محسوس کرتی ہوں کہ میری زندگی دیگر خواتین کی زندگی میں مختلف حوالوں سے تبدیلی لائی ہے کہیں آبادی میں اضافہ کے حوالے سے کہیں گھریلو تشدد کو بےنقاب کرنے کے حوالے سے کبھی عورت کو یہ آزادی دیلانے کے حوالے سے کہ وہ اپنا ذاتی کاروبار خود شروع کرسکتی ہے۔۔۔میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ عورتوں کی کامیابی کے لئے وہ سب کچھ کرسکوں جو مجھ سے بن پڑے۔۔۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |