BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 September, 2003, 11:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی سی کے سربراہ کی گواہی
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل گریگ ڈائک
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل گریگ ڈائک

بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل گریگ ڈائیک نے کہا ہے کہ برطانیہ کی حکومت نے بی بی سی کی صحافتی ساکھ کو جس طرح نشانہ بنایا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

وہ پیر کے روز وزارت دفاع کے مشیر ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کی موت کے اسباب کا جائزہ لینے کے لئے قائم کردہ ہٹن انکوائری کے دوسرے مرحلے میں گواہی دے رہے تھے۔

ہٹن انکوائری دس روز کےوقفے کے بعد پیر کے روز شروع ہونے والی انکوائری کے رو برو وزارت دفاع کے اہم اہلکار کے علاوہ وزیر اعظم کے دفتر کے سابق سربراہ الیسٹئیر کیمپبل، بی بی سی کے صحافی اینڈریو گِلیگن اور خفیہ اداروں کے اہلکار گواہوں کے طور پر پیش ہونگے۔

گریگ ڈائیک نے انکوائری کو بتایا کہ وزیر اعظم کے مشیر اطلاعات الیسٹئیر کیمپبل کی طرف سے بی بی سی کو نشانہ بنانے کا اصل مقصد عراق پر حملے سے متعلق دوسرے اہم سوالوں سے توجہ ہٹانا تھا۔

بی بی سی کے سربراہ نے رپورٹر اینڈریو گیلیگن کی جانب سے ایک رکن پارلیمنٹ کو لکھے گئے ای میل پیغامات کو ناقابل قبول قرار دیا۔

اس ای میل پیغام سے پتا چلتا ہے کہ ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ کی رپورٹر سوزن واٹس کا بھی ذریعہ تھے۔

گریک ڈائیک کے مطابق پارلیمنٹ کی کمیٹی کے ایک رکن کو اینڈریو گیلیگن کا ای میل پیغام اس لئے قابل قبول نہیں تھا کیونکہ وہ ایک ایسی حیثیت میں نہیں تھے کہ انہیں معلوم ہو کہ سوزن واٹس کا ذریعے ڈاکٹر کیلی ہیں اور نہ ہی انہیں یہ پیغام بھیجنے کی اجازت تھی۔

انکوائری نے پیر کے روز برطانیہ کے خفیہ ادارے ایم آئی چھ کے سربراہ کی شہادت بھی ریکارڈ کی ۔

انہوں نے بتایا کہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق دستاویز کو تیار کرنے کا مرحلہ بہت ہی اچھی طرح انجام پزیر ہوا۔

پیر کے روز گریگ ڈائک کے علاوہ فوج کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ ائیر مارشل سر جو فرینچ، نائب سربراہ ٹونی کراگ اور دفاعی ساز و سامان کے ایک ماہر ڈاکٹر رچرڈ سکوٹ سے بھی تفتیش کی گئی۔

ڈاکٹر ڈیوڈ کیلی کو بی بی سی کی اس رپورٹ کا ذریعہ بتایا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیر اعظم کے دفتر اطلاعات نے عراق پر خفیہ اداروں کی جنگ عراق سے پہلے تیار ہونے والی رپورٹ میں عراق کی جنگی تیاری کو بڑھاچڑھا کر پیش کیا تھا۔

ڈاکٹر کیلی کو سوالات کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑا اور اس کے چند روز بعد وہ مردہ پائے گئے اور بظاہر انہوں نے خودکشی کر لی تھی۔

بی بی سی کی رپورٹ پر حکومت کے اعتراضات کے سلسلے میں بی بی سی کی انتظامیہ نے صحافی اینڈریو گلیگن اور ان کے کام کا بھرپور دفاع کیاتھا۔

لیکن ’ہٹن انکوئری‘ نامی تفتیش کے پہلے مرحلے میں گلیگن کی رپورٹ کے بارے میں بی بی سی کے کئی سینئیر صحافیوں کے خدشات کا پتہ چلا تھا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ انکوائری کے اس دوسرے مرحلے میں مزید کیا انکشافات سامنے آتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد