BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 September, 2003, 17:57 GMT 21:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کا نیا اخبار؟
طالبان نے نیا اخبار شائع کیا ہے
طالبان نے جلال آباد سے نیا اخبار شائع کیا ہے

رپورٹ: رفعت اللہ اورکزئی، پشاور

افغانستان کے طالبان نے ’پاثون‘ کے نام سے جلال آباد سے ایک اخبار شروع کیا ہے جو بڑے سائز کے چار صفحات پر مشتمل ہے۔

اخبار میں زیادہ تر پشتو اور فارسی دونوں زبانوں میں رپورٹیں شائع کی گئی ہیں جو زیادہ تر افغانستان سے متعلق ہیں اور جس میں افغان حکومت، اتحادی اور امریکی افواج پر حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

پاثون اخبار دو روز قبل پشاور اور افغانستان کے صوبہ ننگرہار، سرحد سے ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقہ خیبر ایجنسی میں منظر عام پر آیا۔ اخبار میں کوئی تصویر نہیں لیکن اندرونی صفحات پر چند انقلابی اشعار اور نظمیں بھی شائع کی گئی ہیں۔

پاثون ایک پندرہ روزہ اخبار ہے جس کا پہلا شمارہ انیس اگست دو ہزار تین کو شائع ہوا۔ انیس اگست کو افغانوں کی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے۔ آج سے تقریباً چوراسی برس قبل یعنی انیس اگست انیس سو انیس کو افغانوں نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی۔

اخبار کا ایک اداریہ بھی اس دن کی مناسبت سے مرتب کیا گیا ہے جس میں افغانوں کے تاریخی پس منظر،جرات و بہادری کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔

پاثون پشتو زبان کا لفظ ہے اور اس کے لفظی معنی ’قیام یا آغاز‘ کے ہیں۔ اخبار کی کاپیاں دو روز قبل پشاور اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منظر عام پر آئیں۔ اگرچہ اخبار میں واضح طور ایسے کوئی الفاظ تحریر نہیں کیے گئےہیں جن میں شائع کرنے والے نے تسلیم کیا ہو کہ یہ ’اسلامی ملیشیاء‘ کا اخبار ہے۔

تاہم پشاور میں مقیم افغان صحافیوں اور مصنفین کا کہنا ہے کہ اخبار میں جو مواد شائع کیا گیا ہے وہ طالبان کے علاوہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔

مقامی پشتو اخبار وحدت میں کام کرنے والےایک کمپیوٹر آپریٹر جاوید ھمیم نے بتایا کہ انہیں یہ اخبار ان کے دفتر سے ملا۔ انہوں نے کہا کہ دو روز قبل ایک نامعلوم شخص ان کے دفتر آیا اور انہیں ایک بڑا سا لفافہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ لوگوں کی ڈاک آئی ہوئی ہے‘۔

جاوید ھمیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے جب لفافہ کھولا تو اس میں پاثون نام کا اخبار نکلا۔ ان کا کہنا ہے کہ واضح طور پر یہ طالبان کا ہی اخبار ہے کیونکہ اس میں جو خبریں شائع کی گئی ہیں وہ تمام کی تمام افغان حکومت، اتحادی اور امریکی افواج کے خلاف ہیں۔

اخبار کی شہ سرخی یہ تھی کہ ’برمل پکتیا صوبے میں ایک مجاہد نے خودکش حملے میں اٹھائیس غیر ملکی عیسائیوں، یہودیوں اور ان کے مزدور (ملیشیاء افغان فورسز) کو ہلاک کیا ہے‘۔

اخبار کے آخری صفحہ پر ایک چھوٹا سا کالم دیا گیا ہے جس میں پبلشر، پرنٹر، چیف اڈیٹر اور مدیر کے نام دیے گئے ہیں۔

اخبار کے پبلشر اور پرنٹر کو ایک تنظیم کہا گیا ہے جس کا کام غازی، علمی، ثقافتی، سیاسی اور اسلامی ہے جب کہ چیف اڈیٹر کا نام احمد وارث شہاب لکھا گیا ہے۔

دفتر کا پتہ آزادی چوک، ہاؤس نمبر دو سو سولہ، جلال آباد افغانستان بتایا گیا ہے۔

تاہم افغان صحافیوں کا خیال ہے کہ اخبار میں دیے گئے نام اور پتے فرضی ہیں کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک ایسا حکومت مخالف اخبار جلال آباد سے شائع ہو۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد