BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 September, 2003, 13:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانیوں کا دُکھ

آج سے دو برس قبل گیارہ ستمبر کو جب یرغمال ہوائی جہاز امریکہ کے شہر نیو یارک کے جڑواں ٹاوروں سے ٹکرائے گئے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس واقعہ نے دنیا کو بہت حد تک تبدیل کر دیا۔

اس واقعہ نے ان بہت سے مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کو بھی بہت حد تک تبدیل کر دیا جو امریکہ میں رہتے ہیں اور جنہیں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد امریکیوں نے بہت عجیب طرح سے دیکھنا شروع کردیا۔

امریکہ میں ہونے والے ان حملوں کے بعد بہت سے مسلمانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

اور گیارہ ستمبر کے بعد سے امریکہ میں رہنے والے مسلمان ہر اس نئے اقدام کا بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہیں جنہیں حکام یہ کہہ کر نافذ کرتے ہیں کہ قومی سلامتی کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔

اس سال کے اوائل میں امریکی حکومت نے غیر ملکیوں کے لئے ایک نئے پروگرام کا آغاز کیا جس کے مطابق پچیس مسلمان ممالک کے ہر مرد کو حکام کے پاس رجسٹر کرانا لازمی ٹھہرا۔

ان لوگوں کا انٹرویو کیا جاتا ہے، ان کی انگلیوں کے نشان لئے جاتے ہیں اور ان کی تصاویر اتاری جاتی ہیں۔

 جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم کہاں کے ہو تو میں انہیں یہ نہیں بتایا کہ میں پاکستانی ہوں

مقصود احمد

اس امریکی مہم کاایک نتیجہ یہ نکلا کہ حکام کو معلوم ہوگیا کہ کئی مسلمان افراد امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تھے۔ پس ہزاروں افراد کو اب امریکہ بدری کا سامنا ہے۔ جب کہ سینکڑوں کو پہلے ہی ان کے ملک واپس بھیجا جا چکا ہے۔ ان میں سے اکثریت پاکستانیوں کی ہے۔

امریکی ’عتاب‘ کا خوف اتنا زیادہ تھا کہ ان بہت سے پاکستانیوں نے بھی جن کے پاس تمام قانونی دستاویزات تھیں، عافیت اسی میں سمجھی کہ یا وہ پاکستان لوٹ جائیں یا پھر امریکہ چھوڑ کر کینڈا کی طرف نقل مکانی کریں۔

ایسے واقعات کے دو سال کے بعد اب نیویارک میں مقیم وکیل خالد اعظم کہتے ہیں کہ اس سے ایک بات یہ ہوئی ہے کہ امریکی حکومت اور عوام کو معلوم ہو گیا ہے کہ امریکہ کے خلاف جرائم کے سلسلے میں تمام مسلمانوں کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے بھی قدرے اپنے انداز بدلے ہیں اور وہ پہلے کی نسبت امریکی ثقافت کے رنگ میں زیادہ ڈھلے ہیں جس سے نہ صرف اعتماد کی فضا بحال ہوئی ہے بلکہ فاصلے بھی کم ہوئے ہیں۔

تاہم وکیل خالد اعظم کا خیال ہے کہ ابھی مسلمانوں کو اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلمانوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلی کا ایک پہلو یہ ہے کہ ان پر نسل کی بنیاد پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق دو ہزار ایک سے دو ہزار دو کے درمیان نفرت کا شکار ہونے والے اکثر مسلمان تھے۔

مقصود احمد نیویارک میں تعمراتی کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کام کے دوران وہ اپنی قومی اور مذہبی شناخت چھپاتے ہیں۔ ’جب لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو تو میں انہیں یہ نہیں بتایا کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے۔‘

اگرچہ بہت سے پاکستانی امریکہ چھوڑ کر واپس چلے گئے ہیں لیکن کئی ایسے بھی ہیں جو یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔ ان کے پاس اس کی توجہیہ یہ ہے کہ پاکستان جا کر ان کے بچے وہاں کی طرزِ معاشرت کو اپنا نہیں سکیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد