BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 September, 2003, 12:22 GMT 16:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھائی لوگ ڈانس فلور پر

لندن میں نئے سال کا جشن
لندن والوں کو جشن مناتے دیکھ کر نئے آنے والوں سے رہا نہیں جاتا

شہر: لندن

مقام: لیسٹر اسکوائر میں ییٹس کلب

وقت: جمعہ کی رات

منظر: کلب میں داخل ہونے کے منتظر درجنوں لڑکے اور لڑکیاں بانہوں میں بانہیں ڈالے دروازے کے باہر قطار بنائے کھڑے ہیں۔ سڑک پر نیم دائرے کی صورت میں کھڑے دیگر درجنوں افراد کی طرح، ان لوگوں کی نظریں بھی تھوڑے ہی فاصلے پر موجود تین نوجوانوں پر گڑی ہیں۔

یہ تینوں نوجوان کندھے سے کندھا ملائے اپنی بیلٹیں اتار کر کلب کے دروازے پر

کھڑے باؤنسروں یعنی محافظین کو گھور رہے ہیں۔ درمیان والا تو ان کو گالیاں بھی دے رہا ہے اور کلب سے باہر آکر اس کا مقابلہ کرنے کے لئے للکار رہا ہے۔ بظاہر تینوں نوجوانوں کا تعلق یا تو شمالی افریقہ کے کسی ملک سے ہے یا پھر مشرق وسطیٰ سے ہے۔

لندن کا کلب
ایک گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے

گالیاں دینے والا اچانک اپنی قمیض بھی اتار دیتا ہے۔ مجمع سے ہنسی کی دبی دبی سی آواز آتی ہے۔ کلب کے باؤنسر اس نوجوان کو بنیان بھی اتارنے کے لئے کہتے ہیں۔ قطار میں کھڑی ایک لڑکی ان سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ ’ کیوں اپنی بے عزتی کروا رہے ہو، کہیں اور کیوں نہیں چلے جاتے؟‘ ایک باؤنسر ان کو احساس دلاتا ہے کہ کوئی بھی ان سے متاثر نہیں ہو رہا بلکہ سب ان پر ہنس رہے ہیں۔ لیکن ان لڑکوں کو یہ بات سمجھنے میں بھی کم از کم تیس منٹ لگے۔

یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا۔ لندن میں ہر اختتام ہفتہ کی خوبصورت شاموں میں دنیا کے مختلف ممالک سے بہتر مستقبل کی تلاش میں آنے والے سینکڑوں نوجوان شہر کے مختلف نائٹ کلب کے اندر یا باہر اسی طرح بیچارگی کی تصویر بنے اور بے عزت ہوتے نظر آتے ہیں۔ ان میں ایشیائی بھی شامل ہوتے ہے۔

لیکن ان لوگوں میں لندن میں پیدا ہونے والے عرب یا ایشیائی نژاد شامل نہیں۔ وہ اس بارے میں بہت پر اعتماد اور مطمئن نظر آتے ہیں۔

جمعہ کو لیسٹر اسکوائر میں مذکورہ تینوں نوجوانوں کا مسئلہ ییٹس کلب میں داخل ہونا تھا۔ رش کے باعث کلب والے صرف ان لڑکوں اندر جانے دے رہے تھے جن کے ساتھ ان کی دوست بھی تھیں۔ ان تینوں نے بھی قطار میں کھڑی چند لڑکیوں کو کلب میں گھسنے میں مدد پر راضی کر لیا تھا لیکن باؤنسروں نے یہ سارا منظر دیکھ لیا تھا۔ باری آنے پر انہوں نے لڑکیوں کو اندر جانے دیا اور لڑکوں کو روک لیا۔ اتنے رش میں قطار سے نکالے جانا ان لڑکوں سےبرداشت نہیں ہوا اور انہوں نے اپنا تماشا بنا لیا۔

ان تینوں کا مسئلہ غریب ممالک سے آنے والے دوسرے سینکڑوں نوجوانوں کی طرح صرف کلب میں کسی لڑکی کے ساتھ ناچنا ہے۔ ناچنا بھی کیا بس جتنی دیر کے لئے بھی ممکن ہو سکے انہیں اپنی بانہوں میں لینا ہے۔

لڑکی کے جسم کو چھونے بلکہ ’لمس چرا لینے‘ کی اپنی اس خواہش کی تکمیل میں یہ لوگ ڈانس فلور پر مطلوبہ لڑکیوں سے التجا کرنے اور ان سے بھیک مانگنے سے لے کر چالاکی تک ہر حربہ آزماتے ہیں۔

چھٹیوں کی شاموں میں بہت بڑی تعدا میں لڑکیاں بن سنور کر کلبوں کا رخ کرتی ہیں۔ کچھ ڈانس پارٹنر کے ساتھ جاتی ہیں اور کچھ ڈانس فلور پر بھی ساتھی ڈھونڈ لیتی ہیں۔

کلب کے آداب سے واقف اور مغربی ناچ کی باریکیاں سمجھنے والا کوئی بھی لڑکا شام بھر کے لئے ان کا ہو سکتا ہے۔ لیکن باہر سے آنے والے ان دونوں باتوں سے پیدل ہوتے ہوئے اکثر رال ٹپکاتے گھر جانے پر مجبور ہوتے ہیں، کلب میں داخلے کی پابندی تو کبھی کبھار کا مسئلہ ہے۔

اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے زیادہ تر لڑکے ان معاشروں سے آتے ہیں جہاں مرد کا طرۂ امتیاز اس کی غیرت اور انا ہوتی ہے۔ ہر ہفتے مجمع میں دھتکارے جانے پر تیار ہونا عجیب سی بات لگتی ہے۔

کسی بھی کلب کے اندر ڈانس فلور سے فاصلے پر کھڑے ہو کر اگر دیکھیں تو کسی لڑکی کے بدن کو چھو لینے میں لندن کے ان محروموں کی کامیابی اور ناکامی سے قطع نظر ان بھوکے شیروں پر صرف ترس آتا ہے۔ اور ان کا تعلق اگر آپ کے اپنے ملک سے ہو تو شرم بھی آتی ہے۔

کسی لڑکے کو ڈانسنگ فلور پر لڑکی کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر ہی آپ اندازہ

لگا سکتے ہیں کہ وہ اس شہر میں نیا ہے یا کافی عرصے سے رہ رہا ہے۔ رات کے پچھلے پہروں میں جب شراب اپنا رنگ دکھاتی ہے تو لڑکیوں کی طرف سے بعض اوقات ’ہاں‘ کا اشارہ یہ نہیں سمجھتے اور التجا جاری رکھ کر اپنے اناڑی ہونے کا پول کھول دیتے ہیں۔ پھر خالی ہاتھ اندھیرے میں گم ہو کر شرمندگی چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بعض تو ڈھیٹائی کی حد پر ہی جا پہنچتے ہیں۔ ان کا فلسفہ بڑا واضح ہے کہ لڑکی کے معاملے میں کوئی عزت نہیں ہوتی۔ زبردستی بازؤوں میں لے کر ناچ کرنے کی کوشش کریں گے اور دھتکارے جانے پر مسکراتے ہوئے کسی دوسرے کونے میں قسمت آزمائی کے لئے بڑھ جاتے ہیں۔

کئی بار آپ کو لوگ ’حادثاتی‘ طور پر بھی لڑکیوں سے ٹکراتے نظر آتے ہیں۔ جلد ہی ان کی یہ چالاکی بھی دیکھنے والوں کو سمجھ آجاتی ہے اور اگر نہیں آتی تو ان ہی کو نہیں آتی کہ جن کی چوری پکڑی جاتی ہے۔

اس کام میں مشغول ادھیڑ عمر لوگ بھی دیکھے گئے ہیں۔ وہ بیچارے تو ناچ بھی نہیں سکتے۔ جتنی دیر بھی کسی کے کندھے سے کندھا جوڑ کر کھڑے ہو سکیں ان کے لئے وہی کافی ہے۔

لمس کی چوری اجتماعی بھی ہوتی ہے۔ یہ پرانے پاپی تین یا چار کے گروہ میں کام کرتے ہیں۔ لڑکی کو یا لڑکیوں کو نشانے پر رکھ کر تین یا چار اطراف سے ان کی طرف بڑھتے ہیں اور اُن کے بچ نکلنے تک ان کا شوق پورا ہو چکا ہوتا ہے۔ اب ان چند گھڑیوں میں ان کو کیا لطف آتا ہے اور اس سے ان کی کون سی حِس مطمئن ہوتی ہے یہ تو صرف خدا جانتا ہے یا وہ خود۔

لندن کا یہ روپ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ میں اور میرے ساتھ پاکستان سے آنے والے میرے ایک ساتھی ساجد اقبال کا لندن آنے کے ایک ماہ بعد ہی نئے سال کی رات کو ٹریفیلگر اسکوائر پر بیچاروں سے تعارف ہو گیا تھا۔

رات بارہ بجنے کی دیر تھی کے دور دور تک مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گی۔ سامنے سے آتی دو گوریوں کو بھی ایک شخص نے مبارکباد دی اور ان کے ہنسنے پر اس نے ’ون کِس، ون کِس‘ کہتے ہوئے بوسے کی ضد شروع کر دی۔ مرتی کیا نہ کرتی ان میں سے ایک نے منہ آگے کر دیا۔

ہمارے بھائی نے جس کا تعلق یقیناً پاکستان سے یا شمالی ہندوستان سے تھا آگے بڑھ کر اپنا کام کیا اور ساتھ ایک قریبی دکان کے سائے میں کھڑے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا۔

اس سے پہلے کہ لڑکیاں آگے بڑھتیں سائے سے دو نوجوانوں نے بھی سامنے آکر ’می ٹو،می ٹو‘ (میں بھی، میں بھی) کہتے ہوئے ضد شروع کر دی۔ لیکن ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا اور لڑکیاں وہاں سے بھاگ گئیں۔

یہ منظر دیکھ ساجد اقبال نے کہا کہ ’یار اپنی قوم کی اتنی بے عزتی برداشت نہیں ہوتی، اب یہاں سے چلنا چاہیے‘۔ خیر ہم گھر تو نہیں گئے لیکن منفی تین ڈگری سینٹی گریڈ میں نئے سال کی رات بڑی سہمی سہمی سی گزری۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد