BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 September, 2003, 16:28 GMT 20:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پردیس شادی کے جھگڑے
بریڈفورڈ میں ایشیائی بچے
بریڈفورڈ میں ہر پانچواں خاندان ایشیائی نژاد ہے

رپورٹ: رفاقت علی، اسلام آباد

برطانیہ کی عدلیہ کا ایک وفد پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے ازدواجی مسائل کے بارے میں بات چیت کے لئے ستمبر کے تیسرے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرے گا۔ ان مسائل میں بچوں کا اغوا اور لڑکیوں کی زبردستی شادی شامل ہیں۔

پاکستان سپریم کورٹ کے رجسٹرار محمد امین فاروقی کے مطابق برطانوی عدالتی وفد اکیس سے تئیس ستمبر کے دوران پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے نمائندوں سے بات چیت کرے گا۔

پاکستان اور برطانیہ نے اس سال کے شروع میں ایک پروٹوکول پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دونوں ملکوں کی عدالتیں بچوں کی تحویل کے مقدموں میں ایک دوسرے کے فیصلوں کو نافذ کریں گی تاکہ لوگوں کے مسائل میں کمی ہو سکے۔

اس فیصلے سے وہ پاکستانی نثراد برطانوی متاثر ہوں گے جو اپنی ازدواجی زندگی میں تناؤ کی وجہ سے اپنے بچے دوسرے ملک میں منتقل کر دیتے ہیں تاکہ وہ ایک ملک کی عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر چلے جائیں۔

اس پروٹوکول پر پاکستان کی طرف سے چیف جسٹس شیخ ریاض احمد اور برطانیہ کی طرف سے صدر فیملی ڈویثزن کورٹ آف اپیل آف انگلینڈ اینڈ ویلز کی ڈیم ایلزبتھ بٹلر سلوس نے دستخط کیے تھے۔

پروٹوکول کی روشنی میں دونوں ملک ’رابطہ جج‘ مقرر کریں گے جو کسی بھی تنازعہ کی صورت میں دونوں ملکوں کی عدلیہ کے درمیان پل کا کام کریں گے۔اس پروٹوکول کی روشنی میں کسی بھی ایسے بچے کو جسے کسی ایک ملک کی عدالت کے دائرہ اختیار سے نکالنے کے لیے دوسرے ملک لے جایا گیا ہو گا واپس بھیج دیا جائے گا۔

مثال کے طور پر برطانیہ کے رہائشی جس بچے کو والدین میں جھگڑے کی صورت میں پاکستان منتقل کیا ہوگا اسے واپس برطانیہ بھیج دیا جائے گا اور پاکستان کی عدالت اس کا مقدمہ نہیں سنے گی۔ بچے کی رہائش کے بارے میں اختلاف کی صورت میں عدالت صرف اس بات کا تعین کرے گی کہ بچہ کس ملک کا رہائشی ہے۔

یہ پروٹوکول تمام قومیتوں، تہذیبوں اور مذہب کے والدین پر لاگو ہو گا اور اس کا اطلاق مخلوط شادیوں پر بھی ہو گا۔

دونوں ملکوں کی عدالتوں پر لازم ہو گا کہ ایسے مقدموں کا فیصلہ بغیر کسی تاخیر کے کریں۔

برطانوی عدلیہ کا پانچ رکنی وفد صدر فیملی ڈویثزن آف ہائی کورٹ آف انگلیڈ ڈیم ایلزبتھ بٹلر سلاس، کورٹ آف اپیل کے جسٹس تھروپ ، فیملی ڈویثزن آف ہائی کورٹ کے جسٹس سنگر، صدر کیئر سٹیڈرڈ ٹرائبیونل کے جج پرل، سپریم کورٹ آف سکاٹ لینڈ کی جج لیڈی این سمتھ ، اور فیملی ڈویثزن آف ہائی کورٹ آف نارتھ آئرلینڈ کے جسٹس گلن پر مشتمل ہے،۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد