| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ابو مازن کا استعفیٰ منظور
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر یاسر عرفات نے فلسطینی وزیرِ اعظم محمود عباس المعروف ابو مازن کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے نقطۂ نظر سے ابو مازن فلسطینی قیادت میں ایک ایسی شخصیت تھے جنہیں بین الاقوامی قبولیت حاصل تھی۔ ابو مازن اور یاسر عرفات کے درمیان فلسطینی تھارٹی کی سیکیورٹی کی تنظیموں پر کنٹرول کے بارے میں اختلافات تھے۔ ابو مازن فلسطینی شدت پسندوں سے نمٹنے کے لئے سیکیورٹی تنظیموں پر زیادہ کنٹرول چاہتے تھے۔ اس سے قبل اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے غزہ میں مختلف اہداف پر میزائلوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں شدت پسند تنظیم حماس کے بانی شیخ احمد یاسین زخمی ہو گئے تھے۔
اسرائیل کے اس حملے سے قبل فلسطینی وزیرِ اعظم ابو مازن حماس کے رہنما احمد یاسین نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جس پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ یاسر عرفات کو قبول نہیں کریں گے۔ اپنے رد عمل میں اسرائیل نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لئے امریکی امن منصوبے نقشہ راہ پر عمل درآمد کے سلسلے میں واحد فلسطینی رابطہ ابو مازن ہی رہیں گے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق وہ فلسطینی انتظامیہ میں قیادت کے بحران کو بڑی گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فلسطین کا اندرونی معاملہ ہے۔ حالیہ دنوں میں محمود عباس اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے درمیان اختیارات کے لئے کشمکش دیکھنے میں آئی ہے۔ محمود عباس کو یاسر عرفات نے ہی چند ماہ پہلے وزیر اعظم نامزد کیا تھا تاکہ امریکہ کی طرف سے پیش کردہ امن منصوبے ’نقشہ راہ‘ پر پیش رفت ہو سکے۔ جمعرات کے روز محمود عباس نے فلسطینی پارلیمنٹ سے اپیل کی تھی کہ یا تو اختیارات کے لئے جاری کشمکش میں ان کی حمایت کریں یا پھر عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ان کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |